03/December/2025

مذہبی منافرت: لاہور ہائیکورٹ نے انجینئر محمد علی مرزا کی درخواستِ ضمانت منظور، رہائی کا حکم

👁️ 402 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مذہبی منافرت: لاہور ہائیکورٹ نے انجینئر محمد علی مرزا کی درخواستِ ضمانت منظور، رہائی کا حکم

مذہبی منافرت: لاہور ہائیکورٹ نے انجینئر محمد علی مرزا کی درخواستِ ضمانت منظور، رہائی کا حکم

لاہور (نمائندہ ڈیلی اردو) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہائی کورٹ نے ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر مذہبی منافرت کے مقدمہ میں گرفتار انجینیئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

 

ڈیلی اردو کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے مذہبی منافرت کے مقدمے میں مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا  کی ضمانت منظور کرتے ہوئے فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

 

ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس صداقت خان نے ضمانت منظور کرتے ہوئے انجینئر محمد علی مرزا کو 5 ، 5 لاکھ روپے مالیت کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے انجینئر محمد علی مرزا کیخلاف مقدس ہستیوں کی توہین کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔ 

 

وکیل ایف آئی اے کے مطابق ملزم کیخلاف باقاعدہ فتویٰ جاری ہوچکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ فتوے لیکر ٹرائل کورٹ جائیں یہاں صرف ضمانت سے متعلق دلائل دیں۔ تفصیلات، شواہد اور فتوے ٹرائل کورٹ نے دیکھنے ہیں۔

 

دریں اثنا مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا نے ایف آئی اے کی تحقیقات کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔ ایڈووکیٹ نبیل جاوید کاہلوں کی وساطت سے دائر درخواست میں ایف آئی اے اور پنجاب قرآن بورڈ کو فریق بنایا گیا ہے۔

 

محمد علی مرزا نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے انہیں نوٹس جاری کیے بغیر تحقیقات شروع کر دی ہیں، ایف آئی اے نے سوشل میڈیا سے ویڈیو پر فتویٰ کے لیے پنجاب قرآن بورڈ بھجوا دی۔

 

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پنجاب قرآن بورڈ نے پرانی ویڈیو پر درخواست گزار کو گنہگار قرار  دیا ہے، پنجاب قرآن بورڈ کو کسی طرح کا فتویٰ جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے، پنجاب قرآن بورڈ صرف قرآن پاک کی اشاعت کو دیکھتی ہے۔

 

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت درخواست گزار کے خلاف جاری فتویٰ کو کالعدم قرار دے کر تحقیقات ختم کرنے کا حکم دے۔

 

انجینئر محمد علی مرزا پہلے بھی گرفتار ہو چکے ہیں

 

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ انجینئر محمد علی مرزا کو گرفتار کیا گیا ہو۔ وہ اس سے پہلے 2020 میں بھی گرفتار ہوئے تھے۔ انہیں 4 مئی 2020 کو ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے  انہیں اپنی تقاریر میں  نفرت انگیزی پھیلانے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔ اگرچہ عدالت نے ان کا 14 روزہ ریمانڈ دیا تھا، تاہم گرفتاری کے دو دن بعد ہی عدالت کے حکم پر انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

 

یہ وہ وقت تھا جب انہیں سوشل میڈیا پر غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔

 

گرفتاری کی وجہ بننے والی مذکورہ ویڈیو میں محمد علی مرزا پیری مریدی، اور بیعت کی شرعی حیثیت پر بات کرتے نظر آئے۔ اس دوران جب انہوں نے پاکستان میں مقبول چند مذہبی شخصیات کا تذکرہ کیا تو سامعین میں موجود ایک شخص نے انہیں ٹوکا اور کہا کہ 'ایسی بات نہ کریں یہ آپ زیادتی کر رہے ہیں‘ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ جب آپ قرآن و سنت اور حدیث سے دلیل لے رہے ہیں تو میں بات پوری کروں گا۔

 

2023 میں ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت توہینِ مذہب کے مقدمے کا اندراج بھی ہوا۔

 

مارچ 2021 میں مرزا ایک قاتلانہ حملے میں اُس وقت بال بال بچے جب ایک حملہ آور نے ان کی اکیڈمی کے اندر انہیں چھرا گھونپنے کی کوشش کی۔ مرزا معمولی زخمی ہوئے جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔

 

انجینئر محمد علی مرزا کون ہیں؟

 

میکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے اور سرکاری ملازمت کرنے والے محمد علی مرزا نے اپنے آن لائن لیکچرز اور مباحثوں کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ ان کا کھلا اور بے باک انداز اکثر تنازع کا باعث بنا۔

 

ان کا یوٹیوب چینل، جس پر مذہب، تاریخ اور معاشرتی موضوعات پر بحث کی جاتی ہے، اب تین ملین سے زائد سبسکرائبرز کے ساتھ پاکستان میں اسلامی اسکالرز میں سب سے بڑے پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C