13/May/2025

میانمار: جنگی طیاروں کا اسکول پر فضائی حملہ، طلبہ اور اساتذہ سمیت 22 افراد ہلاک

👁️ 106 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
میانمار: جنگی طیاروں کا اسکول پر فضائی حملہ، طلبہ اور اساتذہ سمیت 22 افراد ہلاک

میانمار: جنگی طیاروں کا اسکول پر فضائی حملہ، طلبہ اور اساتذہ سمیت 22 افراد ہلاک

بنکاک (ڈیلی اردو) میانمار کے شورش زدہ علاقے ساگائنگ ریجن کے دیپاین ٹاؤن شپ میں ایک اسکول پر کیے گئے مہلک فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 20 طلباء اور 2 اساتذہ کی تدفین کردی گئی۔ حملے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق، یہ دل دہلا دینے والا واقعہ پیر کی صبح اوے تھین کوئن گاؤں میں پیش آیا، جب ایک جنگی طیارے نے اسکول کی عمارت پر دو کلسٹر بم گرائے۔ اس وقت اسکول میں 100 سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ہلاک شدگان میں دوسری جماعت سے گیارہویں جماعت تک کے طلباء شامل تھے، جن میں کئی کی عمریں 10 سال سے بھی کم تھیں۔

عینی شاہدین اور مقامی مزاحمتی گروپوں کے مطابق، بمباری کے فوری بعد 18 لاشوں کی تدفین گاؤں کے دو قبرستانوں میں کر دی گئی، جب کہ باقی افراد کی میتیں بعد ازاں دفنائی گئیں۔ متعدد زخمیوں کو علاقائی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کم از کم دو زخمی طلباء کے اعضا ضائع ہو چکے ہیں۔

حکومت کا مؤقف اور عالمی ردعمل

میانمار کی فوج نے سرکاری اخبار گلوبل نیو لائٹ میں شائع بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اطلاعات جعلی اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ تاہم، آزاد میڈیا اور نیشنل یونٹی گورنمنٹ (NUG) کی رپورٹ کے مطابق یہ ایک دانستہ اور ہدفی حملہ تھا، جس کا مقصد مزاحمتی تحریک کے زیر انتظام چلنے والے اداروں کو نشانہ بنانا ہے۔

برطانیہ کی وزیر برائے انڈو پیسیفک کیتھرین ویسٹ نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا، “اسکول کسی بھی معاشرے میں تحفظ اور علم کا مرکز ہوتے ہیں، نہ کہ ہدف بننے کی جگہ۔ ہم میانمار کی فوج سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنانے سے باز رہے۔”

مزاحمتی مؤقف

نیشنل یونٹی گورنمنٹ کی انسانی حقوق کی وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ، “بچوں اور اساتذہ پر کیے گئے اس منظم حملے میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، اور کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔”

میانمار میں 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک 6,600 سے زائد شہری مارے جا چکے ہیں، جن میں سینکڑوں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ ساگائنگ ریجن مزاحمتی تحریک کا ایک اہم مرکز تصور کیا جاتا ہے، جہاں فوجی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C