پاکستان سے متعلق صدر جوبائیڈن کے بیان پر امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا ہے، وزیرخارجہ بلاول بھٹو
👁️ 31 بار دیکھا گیا
پاکستان سے متعلق صدر جوبائیڈن کے بیان پر امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا ہے، وزیرخارجہ بلاول بھٹو
اسلام آباد (ڈیلی اردو/وی او اے) مریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار ‘بے ربط’ ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ ملک دنیا کے سب سے زیاد ‘خطرناک’ ملکوں میں سے ایک ہو۔ جو بائیڈن کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ امریکی سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے اس بیان کی وضاحت طلب کی جائے گی۔
جمعرات کی شب لاس اینجلس میں ڈیمو کریٹک کانگریشنل کمپین کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ کیا کسی نے سوچا تھا کہ آج ہم یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ چین بھارت، روس اور پاکستان کے ساتھ اپنے روابط میں تبدیلی لا رہا ہو۔
بائیڈن کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ کسی بھی امریکی سربراہِ مملکت سے زیادہ وقت گزارا ہے۔ ان کے ساتھ گزشتہ 10 برسوں میں ہونے والی ملاقاتوں کا دورانیہ 78 گھنٹے ہے جن میں سے 68 گھنٹے ون آن ون ملاقاتوں کے تھے۔
صدر بائیڈن نے چینی صدر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ بہت سے مسائل ہیں، لہٰذا ہم انہیں کیسے ہینڈل کریں؟ روس میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے ہم کیسے نمٹیں؟ اور میرا خیال ہے کہ دنیا کےسب سےخطرناک ملکوں میں سے ایک، پاکستان ہے، جس کے جوہری ہتھیار بے ربط ہیں۔”
بائیڈن کا کہنا تھا کہ اس ساری صورتِ حال میں بہت کچھ ہو رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کے پاس اکیسویں صدی کے دوسرے کوارٹر میں ان حالات میں تبدیلی کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔
صدر بائیڈن نے خطاب میں کہا کہ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم ان حالات کو کیسے سنبھال سکتے ہیں، آپ میں سے کئی نے یہ پہلے بھی سن رکھا ہو گا جو میں نے صدر بننے کے بعد دنیا کی سات بڑی جمہوریتوں کے فورم جی سیون سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اب امریکہ واپس آ گیا ہے۔”
امریکی سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کرنے کا فیصلہ
صدر بائیڈن کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اُن کی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے بات ہوئی ہے اور امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کو دفترِ خارجہ طلب کر لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈیمارش (سفارتی مراسلہ) اُن کے حوالے کیا جائے گا۔
“صدر جو بائیڈن کے بیان پر امریکی سفیر کو طلب کرکے ڈی مارش کیا جائے گا۔”
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری @BBhuttoZardari
2/6— PPP (@MediaCellPPP) October 15, 2022
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے طے کردو اُصولوں کے مطابق اپنے جوہری پروگرام کا تحفظ یقینی بنا رکھا ہے۔
پاکستانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کو پاکستان کے بجائے بھارت کے جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کی بات کرنی چاہیے تھے، جس کی جانب سے غلطی سے داغے جانے والا میزائل پاکستانی حدود میں گرا تھا۔
خیال رہے کہ رواں برس نو مارچ کو بھارت کی جانب سے آنے والا ایک میزائل پاکستانی پنجاب کے علاقے میاں چنوں میں گرا تھا۔ اس میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تھا، تاہم ایک مکان اور ہوٹل کو نقصان پہنچا تھا۔
بعدازاں بھارتی حکام نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ سپر سانک کروز میزائل ‘براہموس’ تھا، جو غلطی سے پاکستانی علاقے کی جانب فائر ہو گیا۔ بھارت نے اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیان سے حیرانی ہوئی اور یہ غلط فہمیاں باہمی رابطے نہ رکھنے کی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔ لیکن اب خوش قسمتی سے ہم دوبارہ باہمی روابط کو فروغ دے رہے ہیں۔
اس سے قبل وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے ہفتے کو ایک پریس کانفرنس کے دوران اس حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی صدر کے پاکستان سے متعلق شکوک و شہبات بے بنیاد ہیں۔
خرم دستگیر جو مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں وزیرِ دفاع بھی رہ چکے ہیں کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بالکل محفوظ ہے اور کئی عالمی تنظیمیں درجنوں بار پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے محفوظ ہونے کی تصدیق کر چکی ہیں۔
‘کیا پاکستان نے جوہری طاقت بننے کے بعد کسی ملک کے خلاف جارحیت کی؟’
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی امریکی صدر کے بائیڈن پر ردِعمل دیتے ہوئے سوال اُٹھایا کہ کیا بائیڈن بتا سکتے ہیں کہ جوہری طاقت حاصل کرنے کے بعد پاکستان نے کب کسی ملک کے خلاف جارحیت کی؟
عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں حکومتِ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بائیڈن کا یہ بیان ‘امپورٹڈ حکومت’ کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ استوار کیا جا رہا ہے۔ یہ اس حکومت کی نااہلی ظاہر کرتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ بطور سابق وزیرِ اعظم یہ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کا جدید ترین کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام ہے۔
I have 2 Qs on this: 1. On what info has @POTUS reached this unwarranted conclusion on our nuclear capability when, having been PM, I know we have one of the most secure nuclear command & control systems? 2. Unlike the US which has been involved in wars https://t.co/nkIrlekBxQ
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) October 15, 2022
امریکی صدر کے بیان پر پاکستان کے سابق وزیرِاعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے جو بین الاقوامی قوانین اور طریقوں کا احترام کرتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا جوہری پروگرام کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام دیگر آزاد ریاستوں کی طرح اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔
Pakistan is a responsible nuclear state that is perfectly capable of safeguarding its national interest whilst respecting international law and practices. Our nuclear program is in no way a threat to any country. Like all independent states,
…1/2
— Nawaz Sharif (@NawazSharifMNS) October 15, 2022
واشنگٹن میں قائم ولسن سینٹر میں جنوبی ایشائی امور کے ماہر مائیکل کوگلمین نے صدر بائیڈن کے ریمارکس پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت عجیب بیان ہے، عام طور پر امریکی حکام ایسے بیانات عوامی سطح پر نہیں دیتے۔
Last night, at a fundraiser, Biden said Pakistan may be one of the world’s most dangerous countries, adding, “Nuclear weapons without any cohesion.”
Strange comment-not the type of thing senior US officials typically say publicly as much as they used to. https://t.co/9UKyaj3Ju2— Michael Kugelman (@MichaelKugelman) October 15, 2022
خیال رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ امریکہ کو یہ گلہ رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان بعض طالبان گروپس کی حمایت کرتا رہا ہے جب کہ پاکستان کا یہ شکوہ رہا ہے کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف نہیں کیا۔
حال ہی میں پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف، وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور پاکستانی آرمی چیف امریکہ کے دورے کر چکے ہیں۔ ان دوروں میں دونوں ملکوں کے حکام کی جانب سے تعلقات کو بہتر بنانے پر اتفاق بھی کیا گیا تھا۔
امریکی کانگریس نے حال ہی میں پاکستان کے ایف سولہ طیاروں کی مرمت اور اپ گریڈیشن کے لیے 45 کروڑ ڈالر کی منظوری بھی دی تھی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
طالبان نے افغانستان میں چھوٹی داڑھی پر امدادی کارکن گرفتار کر لیے
23/June/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات پر عارضی پابندیاں نرم کر دیں، 60 روزہ لائسنس جاری
23/June/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
ایران میں کریک ڈاؤن، “دشمن سے تعاون” کے الزام میں 3 ہزار سے زائد گرفتاریاں
23/June/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید
23/June/2026 👁️ 66 بار دیکھا گیا
ماسکو پر 60 ڈرون حملے ناکام، یوکرین میں روسی حملوں سے 5 افراد ہلاک
23/June/2026 👁️ 125 بار دیکھا گیا
لبنان میں حزب اللہ کا اسرائیل کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
23/June/2026 👁️ 96 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8847 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4603 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3298 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2469 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2121 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C