30/August/2025

پاکستانی حکومت نے لاپتا افراد کے اہل خانہ کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کر دی

👁️ 557 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستانی حکومت نے لاپتا افراد کے اہل خانہ کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کر دی

پاکستانی حکومت نے لاپتا افراد کے اہل خانہ کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کر دی

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستانی حکومت نے لاپتا افراد کے خاندانوں کو قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد لاپتا افراد کے اہل خانہ کو درپیش مسائل کے حل میں قانونی مدد فراہم کرنا ہے۔

 

پریس ریلیز کے مطابق یہ کمیٹی اُن خاندانوں کی معاونت کرے گی جن کے کیسز فیملی لا سے متعلقہ جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے کمیشن (COI-OED) میں زیرِ سماعت ہیں۔ یہ کمیشن 2011 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ لاپتا افراد کو تلاش کیا جا سکے اور ان افراد یا اداروں کا تعین کیا جا سکے جو اس کے ذمہ دار ہیں۔ 2025 کی پہلی ششماہی میں کمیشن کو 125 لاپتا افراد کے کیسز موصول ہوئے۔

 

کمیٹی کے مطابق لاپتا افراد کے اہل خانہ اگر کسی مسئلے، خاص طور پر کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ یا ب فارم کے اجراء سے متعلق مسائل کا سامنا کر رہے ہیں تو وہ اپنی شکایات تحریری صورت میں خصوصی کمیٹی کو بھیج سکتے ہیں۔

 

مزید برآں، اہل خانہ اسلام آباد میں COI-OED کی اسسٹنٹ رجسٹرار سعدیہ راشد سے ڈائریکٹوریٹ جنرل سول ڈیفنس بلڈنگ میں کسی بھی ورکنگ ڈے پر ملاقات کرکے اپنے مسائل جمع کرا سکتے ہیں۔

 

سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے وضاحت کی کہ لاپتا افراد اور جبری گمشدگیوں کے کیسز میں ججوں کو ریاست اور قانون سازوں کی عدم تعاون کی وجہ سے متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

کمیشن کے مطابق جون 2025 تک COI-OED کو موصول ہونے والے کیسز کی کُل تعداد 10,592 تھی، جن میں سے 1,914 کیسز نمٹا دیے گئے جبکہ 6,768 کیسز پر تفتیش جاری ہے۔

 

وفاقی وزیر قانون نے بتایا کہ گزشتہ برس حکومت نے لاپتا افراد کے اہل خانہ کے لیے 50 لاکھ روپے کے سپورٹ پیکیج کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت انہیں قانونی اور مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C