25/December/2022

پیرس میں نسل پرست کے ہاتھوں 3 کردوں کی ہلاکت پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں

👁️ 25 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پیرس میں  نسل پرست کے ہاتھوں 3 کردوں کی ہلاکت پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں

پیرس میں نسل پرست کے ہاتھوں 3 کردوں کی ہلاکت پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں

پیرس (ڈیلی اردو/اے ایف پی/وی او اے) پیرس میں جمعہ کے روز اس وقت جھڑپیں شروع ہوئیں جب وہاں صدمے کی شکار کرد برادری کے ارکان نےایک کرد ثقافتی مرکز پر فائرنگ میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد انصاف کا مطالبہ کیا۔پولیس نے سرعت کے ساتھ ایک 69 سالہ سفید فام شخص کو حراست میں لے لیا ہے جس پر تین افرادکو قتل کرنے کا شبہ ہے۔

پیرس میں ایجنسی فرانس پریس کے نامہ نگار روری ملہولینڈ نے ایک ٹویٹ میں پولیس اور احتجاج کرنے والےبرہم کردوں کے درمیان جحڑپوں کی یہ ویڈیو پوسٹ کی ہے۔

مشتبہ شخص کو عہدہ دارنسل پرستی پر مبنی حملوں کے حوالے سے جانتے ہیں اور علاقے میں دہشت پھیلانےکے دوران اس کے چہرے پر زخم آئے ہیں۔

وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمینین نے کہا کہ ریٹائرڈ ٹرین ڈرائیور دانستہ طور پر غیر ملکیوں کو تلاش کر رہا تھا۔ لیکن انہوں نے مزید کہا کہ یہ “یقینی نہیں ہے کہ اس شخص کا مقصد تخصیص کے ساتھ کردوں کو ہلاک کرنا تھا۔

بلوہ پولیس نے فائرنگ کے مقام سے کچھ ہی فاصلے پر اس مشتعل ہجوم کو منتشر کرنےکے لیے آنسو گیس کے گولے داغے جس نے کوڑے کے ڈبے اور ریستورانوں کی میزیں الٹ دیں اور کم از کم ایک کار کو نقصان پہنچا۔

پیرس میں کرد برادری کے ارکان نے کہا کہ انہیں حال ہی میں پولیس نے کرد اہداف کو لاحق خطرات سے خبردار کیا تھا۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ فرانس کے کرد پیرس کے قلب میں ایک گھناؤنے حملے کا نشانہ بنے ہیں۔ ہماری ہمدردیاں متاثرین، اور ان لوگوں کے ساتھ ہے جو زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں، ان کے اہلخانہ اور پیاروں کے ساتھ ہیں۔

قریبی رہائشیوں اور تاجروں کو اس حملے نے ایک ایسے وقت میں ہلادیا ہے جب پیرس میں کرسمس ویک اینڈ سے قبل تہواروں کی چہل پہل اور خریداری جاری تھی۔

علاقے کی میئر، الیگزینڈرا کورڈبارڈ کے مطابق، فائرنگ کا واقعہ دوپہر کے وقت ایک کرد ثقافتی مرکز، ریستوران اور سیلون میں پیش آیا۔ جائے وقوعہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ شوٹنگ کا اصل محرک ابھی تک غیر واضح ہے۔

پولیس نے پیرس کے اس علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا ہے، پیرس پولیس نے لوگوں کو خبردار کیا ہےکہ وہ دور رہیں۔

پیرس کے پراسیکیوٹر لارے بیکو نے کہا کہ فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں، ایک کی حالت تشویش ناک ہے جب کہ دواسپتال میں ہیں لیکن ان کی حالت کم تشویشناک ہے۔

انہوں نےبتایا کہ حملہ آور کے چہرے پر بھی زخم آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے وکلائے استغاثہ، تفتیش کاروں سے رابطے میں ہیں، لیکن انہیں دہشت گردی کے محرک کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C