چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر: تاحیات عہدہ اور مکمل استثنیٰ، آئین، فوج اور سیاست پر قبضے کا نیا باب
👁️ 392 بار دیکھا گیا
چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر: تاحیات عہدہ اور مکمل استثنیٰ، آئین، فوج اور سیاست پر قبضے کا نیا باب
اسلام آباد (ڈیلی اردو/اے ایف پی/بی بی سی/ڈی پی اے) پاکستان کی پارلیمان نے جمعرات کو فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو نئے اختیارات دینے اور انہیں عمر بھر کے لیے گرفتاری اور مقدمات سے استثنیٰ فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔ یہ قدم ناقدین کے مطابق خود اختیاریت یا شخصی حکومت کی جانب پیش رفت کے مترادف ہے۔
27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے طریقہ کار میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ترمیم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے مسلح افواج کے انتظامی ڈھانچے میں وضاحت اور شفافیت آئے گی اور عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان ایک ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے جہاں فوج کا سیاسی اثر و رسوخ طویل عرصے سے نمایاں رہا ہے۔ کبھی یہ اثر اقتدار پر براہِ راست قبضے کی صورت میں نمودار ہوتا رہا تو کبھی پس پردہ اثر و رسوخ کے ذریعے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کبھی سویلین خود مختاری بڑھتی رہی تو کبھی پرویز مشرف اور ضیا الحق جیسے فوجی حکمرانوں کے دور میں عسکری غلبہ غالب رہا۔
تجزیہ کار اس سویلین عسکری توازن کو ‘ہائبرڈ نظام’ کہتے ہیں، اور بعض ماہرین اس ترمیم کو فوج کے حق میں طاقت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی علامت سمجھتے ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی میں قائم ولسن سینٹر کے ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے: ’’میرے نزدیک یہ ترمیم اس بات کا تازہ ترین، بلکہ سب سے مضبوط اشارہ ہے کہ پاکستان اب ہائبرڈ نظام کے مرحلے سے مابعد ہائبرڈ نظام میں داخل ہو چکا ہے۔ ہم ایسی صورتحال دیکھ رہے ہیں جہاں سول اور فوج کے درمیان طاقت کا فرق اپنی حد سے تجاوز کر چکا ہے۔‘‘
ترمیم کے بعد عاصم منیر، جو نومبر 2022 سے آرمی چیف ہیں، اب بحریہ اور فضائیہ کی کمان کے بھی نگران ہوں گے۔ ان کا فیلڈ مارشل کا عہدہ اور وردی تاحیات رہیں گی اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کو ذمہ داریاں دی جا سکیں گی جو صدر اور وزیراعظم کے مشورے سے طے ہوں گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے ان کو زندگی بھر عوامی امور میں نمایاں کردار حاصل رہے گا۔
بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کی عسکری کمان کے ڈھانچے میں وضاحت آئے گی۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف کے حوالے سے کہا کہ یہ تبدیلیاں دفاع کے شعبے کو جدید جنگی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ مگر دیگر ناقدین کے مطابق یہ قدم فوج کو مزید اختیارات دینے کے مترادف ہے۔
پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کی شریک چیئرپرسن اور صحافی منیزے جہانگیر نے کہا: ’’فوج اور سویلین کے درمیان کوئی توازن نہیں رہا۔ ایک ایسے وقت میں جب فوج کو محدود کرنے کی ضرورت تھی، طاقت کا پلڑا دوبارہ فوج کے حق میں جھک گیا ہے۔‘‘
متنازعہ تبدیلی کا دوسرا پہلو عدالتوں اور عدلیہ سے متعلق ہے۔ ترمیم کے تحت ایک نئی وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی جو آئینی سوالات کا فیصلہ کرے گی۔ اس عدالت کے پہلے چیف جسٹس اور دیگر جج صدر نامزد کریں گے۔
منیزے جہانگیر کے مطابق: ’’یہ منصفانہ ٹرائل کے حق کی نوعیت اور شکل ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دے گا۔ ججوں اور آئینی بنچوں کی تقرری میں انتظامیہ کا اثر بڑھ گیا ہے۔ جب ریاست طے کرے کہ کس بنچ میں کون بیٹھے گا تو بطور ایک سائل مجھے منصفانہ ٹرائل کی کوئی امید نہیں رہے گی۔‘‘
صحافی اور مبصر عارفہ نور کہتی ہیں: ’’عدلیہ اس وقت واضح طور پر انتظامیہ کے تابع ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ عدلیہ کو اب آزادانہ طور پر کام کرنے کی کوئی حقیقی گنجائش نہیں ملے گی۔‘‘
اس ترمیم سے پہلے آئینی مقدمات کا فیصلہ سپریم کورٹ کرتی تھی۔ کچھ افراد کا کہنا تھا کہ اس سے فوجداری اور دیوانی مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے۔
ان کے مطابق دونوں معاملات کو الگ کرنے سے عدالتی عمل میں بہتری آئے گی۔ لیکن سپریم کورٹ کے وکیل صلاح الدین احمد نے اسے غیر سنجیدہ دلیل قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں: ’’پاکستان میں زیر التوا مقدمات کی اکثریت سپریم کورٹ میں نہیں ہے۔ اگر واقعی مقدمات جلد نمٹانے کی فکر ہوتی تو توجہ ان عدالتوں کی اصلاح پر ہوتی جہاں اصل بوجھ ہے۔‘‘
ترمیم کے قانون بننے کے چند گھنٹوں کے اندر سپریم کورٹ کے دو جج استعفیٰ دے گئے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا: ’’جس آئین کا دفاع کرنے کی میں نے قسم کھائی تھی، وہ اب باقی نہیں رہا۔‘‘ جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدلیہ کو حکومت کے زیر اثر کر دیا گیا ہے اور 27ویں ترمیم نے ’’سپریم کورٹ کو چکنا چور کر دیا ہے۔‘‘
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ان استعفوں پر کہا: ’’ان کا ضمیر جاگ اٹھا ہے کیونکہ سپریم کورٹ پر ان کی اجارہ داری کم ہوئی اور پارلیمنٹ نے آئین کی بالادستی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘
حامیوں کے مطابق اس سے ملک کے ہر حصے کی عدالتوں میں ججوں کی فراہمی ممکن ہو گی، مگر بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ اسے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وکیل صلاح الدین احمد نے کہا: ’’کسی جج کو اس کے صوبے سے اٹھا کر دوسری ہائی کورٹ میں بھیج دینا اسے مزید حکومتی لائن پر چلنے کے دباؤ میں لائے گا۔‘‘
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی آئین میں تازہ ترمیم کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کے طاقتور ترین فوجی رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ یہ ترمیم نہ صرف ان کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے بلکہ انہیں تاحیات عہدہ اور مکمل قانونی استثنیٰ بھی فراہم کرتی ہے۔
جمعرات کو منظور کی گئی اس آئینی ترمیم کے تحت تینوں مسلح افواج آرمی، نیوی اور ایئر فورس – کو ایک نئے عہدے ’’چیف آف ڈیفنس فورسز‘‘ کے ماتحت کر دیا گیا ہے، جس کی باگ ڈور اب فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہاتھ میں ہے۔ ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت انہیں عمر بھر کے لیے فوجداری کارروائی سے استثنیٰ بھی دے دیا گیا، جسے ناقدین غیر معمولی اور غیر محدود اختیارات قرار دے رہے ہیں۔
عاصم منیر کا کیرئیر ایک نظر میں
عاصم منیر نومبر 2022 میں آرمی چیف بنے۔ اس سے قبل وہ بری فوج میں کوارٹر ماسٹر جنرل، کور کمانڈر گوجرانوالہ، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ اور بعد ازاں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں۔
انہیں سن 2019 میں اس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان نے صرف آٹھ ماہ بعد آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹا دیا تھا، جس کی وجوہات کبھی سامنے نہیں آئیں۔ خان کی برطرفی کے بعد جنرل منیر کے حالات یکسر بدل گئے اور شہباز شریف کی حکومت نے انہیں آرمی کی قیادت سونپی۔ مئی میں بھارت کے ساتھ چار روزہ جھڑپ کے بعد انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
ستائیسویں آئینی ترمیم پیش کرتے ہوئے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے پارلیمنٹ میں کہا: ’’ہم نے تاریخی فتح حاصل کی اور پوری قوم نے جنرل عاصم منیر کی قیادت کو سراہا۔ بھارت نے ہماری سرزمین کی خودمختاری کو چیلنج کیا تھا، اس وقت پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی تھی۔‘‘
تاہم جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر اور مصنف عقیل شاہ کے مطابق یہ اعزاز زمینی جنگ کے بجائے زیادہ تر فضائی جھڑپوں پر مبنی تھا، جو روایتی طور پر فیلڈ مارشل کے خطاب کا معیار نہیں ہوتا۔
ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اور دفاعی تجزیہ کار نعیم خالد لودھی کہتے ہیں: ’’فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کے سب سے طاقتور شخص بن چکے ہیں۔ سیاست دانوں نے اپنے وقتی مفاد کے لیے پاکستان کے طویل المدت مفادات داؤ پر لگا دیے ہیں۔‘‘
جنوبی ایشیا کے ماہر شجاع نواز کے مطابق سیاست دانوں نے ’’اپنی انشورنس پالیسی کی تجدید کی ہے۔ منیر کی پانچ سالہ مدت ان کی حکومت سے زیادہ ہے، اس لیے وہ آئندہ انتخابات میں ان کی حمایت کے خواہاں ہیں۔‘‘ ان کے مطابق ’’آئین ریاست کے معاملات چلاتا ہے اور صرف حقیقی نمائندہ حکومت کو اسے تبدیل کرنے کا حق ہے۔‘‘
شجاع نواز مزید کہتے ہیں کہ جنرل منیر کے اختیارات سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے برابر ہو چکے ہیں۔ ان کے پاس ایک فرمانبردار وزیرِ اعظم بھی ہے اور فوجی ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی قوت بھی۔ بطور چیف آف ڈیفنس فورسز، عاصم منیر کو عسکری کمانڈ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں اور فورسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا اختیار ہوگا۔ تاحیات فیلڈ مارشل کا اعزاز برطانوی روایت کے مطابق ہے: ’’فیلڈ مارشل ریٹائر نہیں ہوتے، وہ صرف اپنا عہدہ چھوڑتے ہیں مگر اعزاز برقرار رہتا ہے۔‘‘
منیر نے سفارتی محاذ پر بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے نجی ملاقات بھی شامل ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ’’ٹرمپ غیر متوقع ہیں اور بھارت واشنگٹن کی نظر میں بڑا شراکت دار ہے۔ پاکستان کا مستقبل مضبوط معیشت اور مستحکم سیاسی نظام میں ہے اور فی الحال دونوں کی شدید کمی ہے۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی، ایک لاپتہ
19/July/2026 👁️ 253 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیل کے دو فضائی حملوں میں 9 فلسطینی ہلاک
19/July/2026 👁️ 190 بار دیکھا گیا
بنوں میں سیکورٹی فورسز کے آپریشنز جاری، مزید 3 دہشت گرد ہلاک، سرچ آپریشن میں 28 مشتبہ افراد گرفتار
19/July/2026 👁️ 159 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں خودکش حملے کا بڑا منصوبہ ناکام، ایک دہشت گرد ہلاک
19/July/2026 👁️ 172 بار دیکھا گیا
ڈیرہ اسماعیل خان میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، کالعدم تنظیم کا انتہائی مطلوب کمانڈر ہلاک
19/July/2026 👁️ 167 بار دیکھا گیا
حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں سے پاکستان کے براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ
18/July/2026 👁️ 296 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8958 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4804 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3567 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3171 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2562 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2317 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C