19/November/2025

کہکشاں حیدر: کراچی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث امریکی نژاد پاکستانی خاتون کو 8 سال قید کی سزا

👁️ 321 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کہکشاں حیدر: کراچی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث امریکی نژاد پاکستانی خاتون کو 8 سال قید کی سزا

کہکشاں حیدر: کراچی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث امریکی نژاد پاکستانی خاتون کو 8 سال قید کی سزا

واشنگٹن (ش ح ط) امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک عدالت نے کہکشاں حیدر نامی خاتون کو دہشت گردی سے متعلق جھوٹے بیانات دینے کے الزام میں 8 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، وہ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے رقم بھیجنے اور دہشت گردانہ منصوبوں میں سہولت فراہم کرنے میں ملوث تھیں۔

 

تقریباً چار سال قبل، پاکستان کے صوبہ سندھ کے ‏کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سندھ رینجرز نے دعویٰ کیا تھا کہ کراچی میں فعال ‘ٹارگٹ کلرز’ کی ٹیمیں امریکہ میں مقیم کہکشاں حیدر کے احکامات پر کام کر رہی تھیں۔

 

امریکی عدالت میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق، 23 فروری 2023 کو ایف بی آئی کے اسپیشل ایجنٹس نے 54 سالہ کہکشاں حیدر خان سے پاکستان کے شہر کراچی میں دو پیٹرول پمپوں پر آتش گیر حملوں کے منصوبے میں ملوث ہونے کے متعلق پوچھ گچھ کی۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق، کہکشاں خان امریکی شہری اور پاکستان سے تارکِ وطن ہیں۔ وہ پاکستان کی علیحدگی پسند تحریک مہاجر قومی موومنٹ (MQM) کی رکن تھیں، جو پاکستان میں مہاجر برادری کے ساتھ حکومت کے سلوک پر تحفظات رکھتی ہے۔

 

محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ خان نے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے چندہ جمع کرنے، رقوم منتقل کرنے اور پرتشدد کارروائیوں کے انتظام و اخراجات میں مدد فراہم کرنے کا کردار ادا کیا۔ جنوری 2023 میں انہوں نے پاکستان میں ایک شخص کو کراچی کے دو پنجابی مالکان کے پٹرول پمپوں پر آتش گیر حملے کے لیے بھرتی کیا۔ خان نے ہدف کے مقامات، استعمال ہونے والے آتش گیر مواد، چھپنے کی جگہیں، حملے کے بعد فرار کے طریقے اور حملہ آوروں کے لیے ہتھیار خریدنے کے انتظامات پر بات کی تاکہ کارروائی کامیاب ہو۔ امریکہ میں MQM کے حامیوں سے رقم جمع کر کے پاکستان بھیجی گئی تاکہ حملوں کی ادائیگی ہو سکے۔

 

امریکی اٹارنی کے مطابق، 20 فروری 2023 کو خان کے پاکستانی ساتھی نے انہیں کراچی میں ایک پٹرول پمپ پر ہونے والے آتش گیر حملے کی خبریں اور تصاویر بھیجی، جس میں چھ افراد جھلس گئے تھے۔ خان نے اس خبر کا جشن منایا اور ساتھی کو بتایا کہ اس کام کے لیے بڑا انعام ملے گا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ تصاویر دراصل اکتوبر 2022 کے ایک واقعے کی تھیں، جس پر خان شدید ناراض ہوئیں اور ساتھی پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا۔

 

23 فروری 2024 کو ایف بی آئی کے اسپیشل ایجنٹس نے خان سے مزید پوچھ گچھ کی، لیکن اس دوران خان نے متعدد جھوٹے بیانات دیے اور حملوں میں اپنی شمولیت سے انکار کیا۔

 

 انہوں نے کہا کہ وہ کسی ایسے عمل میں شریک نہیں جو کسی فرد کی ہلاکت یا نقصان کا سبب بنے۔ تاہم فروری 2025 میں مقدمے کی سماعت کے دوران خان نے اعتراف کیا کہ یہ بیانات جان بوجھ کر دیے گئے تھے اور دہشت گردی کی تحقیقات کے لیے اہمیت رکھتے تھے۔

 

قائم مقام امریکی اٹارنی جے آر کامبز نے کہا، “ہم امریکہ کو بیرون ملک دہشت گرد حملوں کے لیے ایک لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو یہ غلط فہمی رکھتے ہیں کہ وہ امریکہ میں محفوظ رہ کر دیگر ممالک میں جرائم کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔”

 

ایف بی آئی کے ڈیلاس کے اسپیشل ایجنٹ انچارج آر جوزف روتھروک نے کہا کہ ان کا ادارہ دہشت گردی کی حمایت میں پرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے یا اس میں حصہ لینے والے افراد کی جارحانہ تحقیقات جاری رکھے گا۔

 

پاکستان میں 2021 میں سی ٹی ڈی نے کہکشاں حیدر کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقدمہ درج کیا تھا۔ اس وقت سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ کہکشاں حیدر ایم کیو ایم لندن کی رابطہ کمیٹی کی رکن تھیں اور امریکہ میں مقیم ہیں۔ تاہم ایم کیو ایم لندن نے کہا تھا کہ وہ پارٹی کی رکن نہیں ہیں اور بعد میں تنظیم نے بھی کہکشاں کو پارٹی سے خارج کر دیا تھا۔

 

کہکشاں حیدر کراچی کے فیڈرل بی ایریا کی رہائشی رہ چکی ہیں اور ان کے بھائی کامران حیدر ایم کیو ایم کے سیکٹر ممبر تھے۔ بعد میں یہ خاندان امریکہ منتقل ہوگیا۔ ان کے بھائی کی وفات 2017 میں ورجینیا میں ہوئی۔

 

ٹوئٹر اور یوٹیوب پر ان کے اکاؤنٹس موجود ہیں، جن میں وہ اپنے آپ کو انسانی حقوق کی کارکن کے طور پر پیش کرتی ہیں اور پشتون تحفظ موومنٹ، سندھی قوم پرستوں کے حق میں اور کراچی کے مسائل پر اظہار خیال کرتی رہی ہیں۔ ستمبر 2019 کی ایک ویڈیو میں وہ اپنا تعلق ایم کیو ایم لندن سے بتاتی ہیں اور پاکستان کے قیام کو اپنے ‘بزرگوں کی غلطی’ قرار دیتی ہیں۔ 

 

انہوں نے پاکستان کی امداد بند کرنے اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی سے مدد کی بھی اپیل کی۔

 

ادھر لندن سے ایم کیو ایم انٹرنیشنل نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ کہکشاں حیدر کو تنظیمی نظم و ضبط کی مسلسل خلاف ورزی اور پارٹی کی پالیسی کے خلاف سرگرمیوں پر کئی سال قبل ایم کیو ایم کی بنیادی رکنیت سے خارج کیا جاچکا ہے اور ان کے کسی قول و فعل سے ایم کیو ایم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C