ہائپرسونک میزائلوں کی عالمی دوڑ: چین کی برتری، روس کی جارحیت اور مغرب کی تشویش
👁️ 597 بار دیکھا گیا
ہائپرسونک میزائلوں کی عالمی دوڑ: چین کی برتری، روس کی جارحیت اور مغرب کی تشویش
لندن (ڈیلی اردو/بی بی سی ) بیجنگ میں یکم اکتوبر 2019 کو ہونے والی چین کے نیشنل ڈے پریڈ میں دنیا نے پہلی مرتبہ پیپلز لبریشن آرمی کے ہائپرسونک میزائلوں کی جھلک دیکھی۔ 11 میٹر لمبے اور 15 ٹن وزنی DF-17 میزائل دیوہیکل لاریوں پر نصب، خزاں کی دھوپ میں دھیرے دھیرے ہجوم کے سامنے سے گزر رہے تھے۔
ہائپرسونک میزائل آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیز (میک 5) سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو انہیں روایتی یا سپرسونک میزائلوں سے قبل از وقت روکنا انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔ جدید ورژنز راستہ بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جس سے دفاعی نظام مزید کمزور ہو جاتا ہے۔
چین اس وقت ہائپرسونک ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہے۔ اس کے بعد روس ہے، جو اپنے "ایون گارڈ" میزائل کو میک 27 (تقریباً 20 ہزار میل فی گھنٹہ) تک کی رفتار والا قرار دیتا ہے۔ 2024 کے آخر میں چین نے "جی ڈی ایف 600" متعارف کرایا، جو ایک وقت میں کئی اہداف کو نشانہ بنانے اور میک 7 (5,370 میل فی گھنٹہ) کی رفتار تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
روس نے نومبر 2024 میں یوکرین کے شہر دنیپرو پر "اوری شنک" نامی درمیانی فاصلے کے میزائل کا تجربہ کیا، جس نے ہائپرسونک صلاحیت کے عملی خطرے کو مزید نمایاں کر دیا۔
امریکہ نے "ڈارک ایگل" ہائپرسونک ہتھیار کی تیاری مکمل کر لی ہے، جبکہ برطانیہ نے اپریل 2025 میں ناسا لینگلے ریسرچ سینٹر میں 233 کامیاب پروپلشن ٹیسٹ رنز کے بعد اعلان کیا کہ وہ اس دوڑ میں شمولیت کے لیے ایک "سنگِ میل" عبور کر چکا ہے۔ تاہم مغربی ممالک اب بھی چین اور روس کے مقابلے میں پیچھے ہیں۔
فرانس، جاپان، اسرائیل اور ایران بھی اپنے اپنے ورژنز تیار کر رہے ہیں۔ ایران نے 2024 میں اسرائیل کے خلاف 12 روزہ جنگ میں ہائپرسونک میزائل استعمال کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ شمالی کوریا 2021 سے اپنی ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔
ہائپرسونک ہتھیاروں کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ روایتی ریڈار انہیں اس وقت تک نہیں پکڑ پاتے جب تک وہ اپنے ہدف کے قریب نہ پہنچ جائیں۔ امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق موجودہ سینسرز ناکافی ہیں اور خلائی نگرانی کو بڑھانا ناگزیر ہے۔
ماہرین کے مطابق ان ہتھیاروں کی تباہ کن طاقت سپرسونک یا سب سونک میزائلوں سے زیادہ مختلف نہیں، لیکن ان کا پتہ لگانا، ٹریک کرنا اور روکنا انتہائی مشکل ہے۔ بوسٹ گلائیڈ اور ہائپرسونک کروز میزائل اس ٹیکنالوجی کی دو بڑی اقسام ہیں۔
ہائپرسونک میزائلوں کی عالمی دوڑ: چین کی برتری، روس کی جارحیت اور مغرب کی تشویش
بیجنگ میں یکم اکتوبر 2019 کو ہونے والی چین کے نیشنل ڈے پریڈ میں دنیا نے پہلی مرتبہ پیپلز لبریشن آرمی کے ہائپرسونک میزائلوں کی جھلک دیکھی۔ 11 میٹر لمبے اور 15 ٹن وزنی DF-17 میزائل دیوہیکل لاریوں پر نصب، خزاں کی دھوپ میں دھیرے دھیرے ہجوم کے سامنے سے گزر رہے تھے۔
ہائپرسونک میزائل آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیز (میک 5) سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو انہیں روایتی یا سپرسونک میزائلوں سے قبل از وقت روکنا انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔ جدید ورژنز راستہ بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جس سے دفاعی نظام مزید کمزور ہو جاتا ہے۔
چین اس وقت ہائپرسونک ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہے۔ اس کے بعد روس ہے، جو اپنے "ایون گارڈ" میزائل کو میک 27 (تقریباً 20 ہزار میل فی گھنٹہ) تک کی رفتار والا قرار دیتا ہے۔ 2024 کے آخر میں چین نے "جی ڈی ایف 600" متعارف کرایا، جو ایک وقت میں کئی اہداف کو نشانہ بنانے اور میک 7 (5,370 میل فی گھنٹہ) کی رفتار تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
روس نے نومبر 2024 میں یوکرین کے شہر دنیپرو پر "اوری شنک" نامی درمیانی فاصلے کے میزائل کا تجربہ کیا، جس نے ہائپرسونک صلاحیت کے عملی خطرے کو مزید نمایاں کر دیا۔
امریکہ نے "ڈارک ایگل" ہائپرسونک ہتھیار کی تیاری مکمل کر لی ہے، جبکہ برطانیہ نے اپریل 2025 میں ناسا لینگلے ریسرچ سینٹر میں 233 کامیاب پروپلشن ٹیسٹ رنز کے بعد اعلان کیا کہ وہ اس دوڑ میں شمولیت کے لیے ایک "سنگِ میل" عبور کر چکا ہے۔ تاہم مغربی ممالک اب بھی چین اور روس کے مقابلے میں پیچھے ہیں۔
فرانس، جاپان، اسرائیل اور ایران بھی اپنے اپنے ورژنز تیار کر رہے ہیں۔ ایران نے 2024 میں اسرائیل کے خلاف 12 روزہ جنگ میں ہائپرسونک میزائل استعمال کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ شمالی کوریا 2021 سے اپنی ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔
ہائپرسونک ہتھیاروں کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ روایتی ریڈار انہیں اس وقت تک نہیں پکڑ پاتے جب تک وہ اپنے ہدف کے قریب نہ پہنچ جائیں۔ امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق موجودہ سینسرز ناکافی ہیں اور خلائی نگرانی کو بڑھانا ناگزیر ہے۔
ماہرین کے مطابق ان ہتھیاروں کی تباہ کن طاقت سپرسونک یا سب سونک میزائلوں سے زیادہ مختلف نہیں، لیکن ان کا پتہ لگانا، ٹریک کرنا اور روکنا انتہائی مشکل ہے۔ بوسٹ گلائیڈ اور ہائپرسونک کروز میزائل اس ٹیکنالوجی کی دو بڑی اقسام ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی، ایک لاپتہ
19/July/2026 👁️ 253 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیل کے دو فضائی حملوں میں 9 فلسطینی ہلاک
19/July/2026 👁️ 190 بار دیکھا گیا
بنوں میں سیکورٹی فورسز کے آپریشنز جاری، مزید 3 دہشت گرد ہلاک، سرچ آپریشن میں 28 مشتبہ افراد گرفتار
19/July/2026 👁️ 159 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں خودکش حملے کا بڑا منصوبہ ناکام، ایک دہشت گرد ہلاک
19/July/2026 👁️ 172 بار دیکھا گیا
ڈیرہ اسماعیل خان میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، کالعدم تنظیم کا انتہائی مطلوب کمانڈر ہلاک
19/July/2026 👁️ 167 بار دیکھا گیا
حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں سے پاکستان کے براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ
18/July/2026 👁️ 296 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8958 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4804 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3567 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3172 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2562 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2317 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C