17/May/2025

اسرائیلی افواج کا غزہ پر زمینی پیش قدمی و عسکری کاروائیوں‌میں‌تیزی لانے کا اعلان

👁️ 88 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسرائیلی افواج کا غزہ پر زمینی پیش قدمی و عسکری کاروائیوں‌میں‌تیزی لانے کا اعلان

اسرائیلی افواج کا غزہ پر زمینی پیش قدمی و عسکری کاروائیوں‌میں‌تیزی لانے کا اعلان

غزہ (ڈیلی اردو) اسرائیلی افواج نے غزہ پٹی کے مختلف حصوں میں زمینی پیش قدمی اور عسکری کارروائیوں میں شدت لاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کا مقصد حماس کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانا اور علاقے کے اہم اسٹریٹیجک مقامات پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر عبرانی زبان میں جاری کردہ بیان میں بتایا کہ انہوں نے غزہ میں متحرک یونٹس کو فعال کر دیا ہے تاکہ وہ اہم علاقوں میں قبضہ مستحکم کر سکیں۔

فلسطینی حکام، جن میں غزہ کی سول ڈیفنس اور وزارت صحت شامل ہیں، کے مطابق حالیہ اسرائیلی کارروائیوں میں جمعرات سے اب تک 250 کے قریب شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ادھر اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان کا آپریشن اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام یرغمالیوں کو بازیاب نہیں کرا لیا جاتا اور حماس کی جانب سے لاحق خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔ فوجی ترجمان نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں انہوں نے 150 سے زائد مشتبہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

مارچ میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل تقریباً بند کر دی تھی، جس کے باعث علاقے میں خوراک اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا کہ غزہ کے لاکھوں شہری بھوک اور پیاس سے دوچار ہیں۔

جنگ بندی کی کوششیں ناکام؟

اسرائیلی اقدامات کے باوجود اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کے مطالبے جاری ہیں، تاہم اسرائیل کی طرف سے جاری تازہ حملوں اور عسکری کارروائیوں کے بعد ان سفارتی کوششوں کی کامیابی کے امکانات کمزور پڑ گئے ہیں۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نئی کارروائی کے تحت نہ صرف غزہ کے کئی علاقوں پر قبضہ کیا جائے گا بلکہ شہریوں کو جنوبی غزہ کی طرف منتقل کرنے کی حکمت عملی بھی اپنائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امدادی سامان پر حماس کی ممکنہ گرفت کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے رواں ماہ اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ غزہ میں زمینی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ ان کے بقول یہ منصوبہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے دورے کے مکمل ہونے کے بعد نافذ العمل ہوگا، جو اب مکمل ہو چکا ہے۔

عالمی ردِعمل

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ٹرک نے اسرائیلی اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ممکنہ طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک حالیہ جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ غزہ کی ایک بڑی آبادی شدید قحط کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، جس کی ذمہ داری اسرائیلی ناکہ بندی پر ڈالی جا رہی ہے، تاہم اسرائیلی حکام نے خوراک کی قلت کے دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق حماس کے قبضے میں اب بھی 57 یرغمالی موجود ہیں، جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C