04/October/2024

اسرائیلی حملوں کے دوران ایرانی وزیر خارجہ بیروت پہنچ گئے

👁️ 69 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسرائیلی حملوں کے دوران ایرانی وزیر خارجہ بیروت پہنچ گئے

اسرائیلی حملوں کے دوران ایرانی وزیر خارجہ بیروت پہنچ گئے

بیروتِ(ڈیلی اردو/ بی بی سی) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بیروت میں ہیں۔ شہر کے جنوبی مضافات پر بڑے پیمانے پر اسرائیلی فضائی حملوں کے چند گھنٹے بعد ہی وہ بیروت پہنچے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کو نشانہ بنانے اور ہلاک کرنے کے بعد سے کسی اعلیٰ ایرانی عہدیدار اور سیاستدان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔

جہاز سے نکلنے کے بعد انھوں نے کہا کہ اگر حزب اللہ جنگ بندی چاہتی ہے تو ایران لبنان میں جنگ بندی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور اس کے ساتھ غزہ میں بھی جنگ بندی ہونی چاہیے۔

عراقچی ایک ایسے وقت میں بیروت میں ہیں جب حالات ایران کے حق میں نظر نہیں آتے۔

بیروت میں کچھ لوگ ایران پر الزام لگاتے ہیں کہ سات اکتوبر کے بعد اسرائیل کے ساتھ حماس کی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے ایران نے مبینہ طور پر ’حزب اللہ پر دباؤ ڈالا‘ لیکن اس گروپ کو وہ مدد فراہم نہیں کی جس کی ضرورت تھی۔

اگرچہ ایران کے اسرائیل پر حالیہ حملے نے تہران اور حزب اللہ کے حامیوں کے لیے جوش و خروش پیدا کیا تھا لیکن وہ عارضی ثابت ہوا اور اب ایک بار پھر میڈیا پر لوگ ایران پر تنقید کر رہے ہیں۔

دوسری طرف حزب اللہ مخالف جماعتیں اسے ایک ایسی جنگ سمجھتی ہیں جو ایران کے باعث ان پر مسلط ہوئی ہے۔

لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی کے ساتھ ملاقات کے دوران عراقچی کا کہنا تھا ’ایران لبنان کی حمایت کے لیے سفارتی مہم شروع کرے گا۔‘

لیکن ایسی مہم چلانے کے لیے ہاتھ میں کوئی کارڈز ہونے چاہییں۔ برسوں سے حزب الہہ جیسے گروہ ایران کے کارڈز تھے۔ اس وقت یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ایران ایسی مہم کیسے چلائے گا جب کہ وہ خود جنگ کے دہانے پر ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C