23/June/2026

اسرائیل نے ایران میں اسٹارلنک سسٹمز اسمگل کیے، سابق وزیراعظم کا انکشاف

👁️ 28 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسرائیل نے ایران میں اسٹارلنک سسٹمز اسمگل کیے، سابق وزیراعظم کا انکشاف

اسرائیل نے ایران میں اسٹارلنک سسٹمز اسمگل کیے، سابق وزیراعظم کا انکشاف

یروشلم (ڈیلی اردو)  اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں ایران کے اندر خفیہ طور پر اسٹارلنک انٹرنیٹ رسیورز اسمگل کیے گئے تھے تاکہ حکومت مخالف مظاہرین کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی برقرار رکھنے میں مدد دی جا سکے۔

 

یروشلم میں منعقدہ جے این ایس انٹرنیشنل پالیسی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے بینیٹ، جو 2021 سے 2022 تک اسرائیل کے وزیراعظم رہے، نے کہا کہ انہوں نے “ہزاروں اسٹارلنک رسیورز حاصل کر کے ایران اسمگل کرنے کا عمل شروع کیا تھا، جس سے انٹرنیٹ اور سوشل نیٹ ورکس کی مسلسل دستیابی ممکن بنائی جا سکتی تھی۔”

 

اسٹارلنک امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے، جو دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

 

بینیٹ کے مطابق ان ڈیوائسز کا مقصد ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کو رابطے اور تنظیم سازی کی سہولت فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنے احتجاج کو مؤثر انداز میں جاری رکھ سکیں۔

 

انہوں نے موجودہ اسرائیلی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “بدقسمتی سے موجودہ نااہل حکومت نے اس منصوبے کو جاری نہیں رکھا۔ جب احتجاجی تحریک سامنے آئی تو مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔”

 

ایران ماضی میں اسرائیل اور امریکہ پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ اس کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے اسٹارلنک ڈیوائسز ایران میں اسمگل کرتے ہیں۔ اگرچہ اسٹارلنک کو ایران میں باضابطہ طور پر کام کرنے کا لائسنس حاصل نہیں، تاہم ایلون مسک اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ یہ سروس ایران میں فعال ہے۔

 

سابق اسرائیلی وزیراعظم کے اس انکشاف پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ اسپیس ایکس کی جانب سے بھی آخری اطلاعات تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C