07/October/2026

اسرائیل کا تین سال میں ایک لاکھ اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، غزہ، لبنان، ایران اور یمن بھی شامل

👁️ 98 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسرائیل کا تین سال میں ایک لاکھ اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، غزہ، لبنان، ایران اور یمن بھی شامل

اسرائیل کا تین سال میں ایک لاکھ اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، غزہ، لبنان، ایران اور یمن بھی شامل

تل ابیب (ڈیلی اردو)  اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے تین سال کے دوران اس نے غزہ سمیت مختلف محاذوں پر تقریباً ایک لاکھ اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان میں تقریباً 65 ہزار اہداف غزہ، 28 ہزار لبنان اور شام، 4 ہزار 500 ایران جبکہ 80 اہداف یمن میں نشانہ بنائے گئے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے دوران مختلف محاذوں سے اسرائیل کی جانب تقریباً 31 ہزار 500 راکٹ، میزائل اور دیگر پروجیکٹائل بھی فائر کیے گئے، جن میں غزہ سے تقریباً 10 ہزار 200، لبنان سے 20 ہزار، ایران سے 1 ہزار 200 اور یمن سے تقریباً 90 حملے شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شام سے تقریباً 50 پروجیکٹائل فائر کیے گئے۔

عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں ’’اہداف‘‘ کی نوعیت، ان کی شناخت کے طریقہ کار یا ان حملوں سے ہونے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ الجزیرہ نے بھی نشاندہی کی ہے کہ اسرائیلی اعداد و شمار میں بڑی تعداد میں حملوں کا ذکر تو کیا گیا ہے، تاہم شہری ہلاکتوں، بے گھر ہونے والے افراد اور وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کو فوج کی رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی تازہ رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں تقریباً 1,200 اسرائیلی ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا، جس کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں شروع ہوئیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے دوران فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد 74 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر عمارتیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران اس کے 970 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ 6 ہزار سے زائد فوجی زخمی ہوئے۔ فوج کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 70 فیصد سے زیادہ اہلکار دوبارہ فوجی خدمات انجام دینے کے قابل ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی وزارتِ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 30 ہزار زخمی فوجی اور سکیورٹی اہلکار بحالی کے شعبے سے طبی و نفسیاتی معاونت حاصل کر چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ جنگ کے دوران اس کے ریزرو فوجیوں کی تعداد میں تقریباً 36 فیصد اضافہ کیا گیا اور مختلف محاذوں کے لیے نئی فوجی یونٹس اور دفاعی ڈھانچے قائم کیے گئے۔ فوج کے مطابق مغربی کنارے میں بھی تقریباً 45 ہزار افراد کو گرفتار یا تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا جبکہ 3 ہزار 800 سے زائد ہتھیار قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب 7 اکتوبر 2023 کے حملے کو تین سال مکمل ہو گئے ہیں اور غزہ جنگ نے لبنان، شام، ایران اور یمن تک وسیع علاقائی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C