23/November/2019

اسلام آباد پریس کلب میں منظور پشتین کا پروگرام منسوخ کردیا گیا

👁️ 31 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسلام آباد پریس کلب میں منظور پشتین کا پروگرام منسوخ کردیا گیا

اسلام آباد پریس کلب میں منظور پشتین کا پروگرام منسوخ کردیا گیا

اسلام آباد (ڈیلی اردو) اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب نے پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منطور پشتین کا پروگرام اخری لمحات میں منسوخ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ‘ہمیں کسی پروگرام کی معلومات نہیں اور نہ پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا ‘۔

سیئنر صحافیوں نے ہفتہ کے روز پریس کلب کی لائیبریری میں منظور پشتین کے ساتھ ایک شام کا انعقاد کیا تھا جبکہ کچھ عرصہ میں نامور شخصیات سے اس نوعیت کے پروگرام منعقد کئے جا چکے ہیں۔

شام چار بجے منطور پشتن اور سئنیر صحافی پریس کلب پہنچے تو وہاں پولیس کی بھاری نفری موجود تھی جبکہ کلب انتظامیہ کے حکم پر سئنیر صحافیوں کے پریس کلب میں داخلہ پر بھی پابندی لگا دی گئی ۔ منظور پشتین اور صحافیوں نے پریس کلب سے منسلک پارک میں پروگرام کا انعقاد کیا جس میں منطور پشتین نے قبائلی علاقہ جات مین بارودی سرنگوں ،لاپتہ افراد اور دیگر مسائل پر گفتگو کی۔

منظور پشتین کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک غدار اور محب وطن کی تعریف ملکی آئین کے تناظر میں کی جانا چاہیے، یعنی جو شہری آئین کی پاسداری کرتا ہے وہ اچھا ہے اور جو نہیں کرتا وہ اچھا نہیں ہے۔ پشتین نے بارودی سرنگوں، قبائلی علاقوں میں جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے دیے جانے والے معاوضوں سے متعلق مسائل، عوامی مشکلات اور گمشدہ افراد سمیت کئی دوسری امور کا تذکرہ کیا۔ تاہم جلد ہی اندھیرا ہو جانے اور روشنی کا اہتمام نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی گفتگو مختصر کرنا پڑی۔

پریس کلب انتظامیہ کا موقف ہے کہ انہیں تو کسی پروگرام کی کوئی خبر نہیں لیکن پولیس کو کس نے بلایا اس کے متعلق پریس کلب انتظامیہ کے پاس کوئی معقول جواز نہیں تھا۔

اسلام آباد پریس کلب میں پیش آنے والے اس واقعے پر صحافی برادری انتہائی ناخوش ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق سیکرٹری جنرل ناصر ملک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”آج جو کچھ پریس کلب میں ہوا، وہ انتہائی شرمناک واقعہ ہے۔ پریس کلب ایک ایسی جگہ ہے، جہاں کوئی بھی شہری آ کر اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے۔ لیکن اس طرح پروگرام منسوخ کرنا، صحافیوں پر دروازے بند کرنا اور ان سے توہین آمیز سلوک روا رکھنا قابل مذمت ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کو اس واقعے کا نوٹس لینا چاہیے۔ عجیب بات یہ ہے کہ صحافی خود ہی آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔‘‘

انسانی حقوق کی کئی تنظیموں نے بھی اس واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C