22/June/2026

سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی

👁️ 24 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی

سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی

واشنگٹن/برگن شٹاک (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/روئٹرز)  سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن شٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم لبنان کی صورتحال اور آبنائے ہرمز سے متعلق اختلافات بدستور برقرار ہیں۔

 

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمیں ہدایت دی ہے کہ ایران کے عوام کے ساتھ تعلقات میں ایک نیا باب کھولا جائے۔ ہم نے صرف چند گھنٹوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور توقع ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔”

 

اتوار کی دوپہر شروع ہونے والے ان مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے وفود کے علاوہ پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی شریک ہیں، جو ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

قطر نے بھی مذاکرات کے آغاز کی تصدیق کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ فریم ورک معاہدے کی بنیاد پر تمام متنازع امور پر ایک جامع اور پائیدار معاہدہ طے پا جائے گا۔ یہ مذاکرات اسی مفاہمتی یادداشت کے تحت ہو رہے ہیں، جس پر رواں ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اتفاق ہوا تھا۔

 

مفاہمتی یادداشت کے مطابق دونوں ممالک نے 60 روز کے اندر ایک حتمی معاہدہ طے کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس میں جنگ کے خاتمے، ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی، یورینیم افزودگی اور دیگر حساس معاملات کو شامل کیا گیا ہے۔

 

تاہم مذاکرات کو لبنان کی صورتحال ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے، لیکن اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔

 

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایران کو سخت انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران فوری طور پر لبنان میں اپنے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کو کارروائیاں روکنے کا کہے۔

 

انہوں نے خبردار کیا، “اگر ایسا نہ ہوا تو ہم ایران کو دوبارہ سخت نشانہ بنائیں گے، جیسا گزشتہ ہفتے کیا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ۔”

 

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر 60 دن کے اندر ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ عبوری معاہدے کے تحت اس اہم عالمی آبی گزرگاہ سے 60 روز تک جہازوں کو بغیر کسی اضافی فیس کے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔

 

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی عندیہ دیا ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔ 

 

اسرائیلی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے جنوبی لبنان میں فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ جنگ بندی انتہائی نازک ہے اور فوج کو کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے مکمل طور پر تیار رہنا ہوگا۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ مذاکرات میں بعض شعبوں میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم لبنان، حزب اللہ، آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام جیسے اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی کسی بھی وقت دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C