21/June/2026

لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ

👁️ 23 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ

لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے لبنان میں اپنے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی سرگرمیاں نہ روکیں تو امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

 

سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران فوری طور پر لبنان میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کو "مسائل پیدا کرنے" سے روکے۔

انہوں نے کہا، “اگر ایسا نہ ہوا تو ہم ایران پر دوبارہ سخت حملہ کریں گے، بالکل ویسا ہی جیسا گزشتہ ہفتے کیا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ شدید۔”

 

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان 17 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے سوئٹزرلینڈ میں اعلیٰ اور تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔ معاہدے میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور خطے میں استحکام کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا گیا تھا۔

 

تاہم 19 جون کو اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جنہیں ایران نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اگر لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں نہ رکیں تو وہ مذاکراتی عمل پر نظرثانی کر سکتا ہے۔

 

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ جب تک حزب اللہ ایک مؤثر عسکری قوت کے طور پر موجود ہے، اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے واپس نہیں بلائی جائے گی۔ اس کے برعکس حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا تک وہ اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔

 

ادھر اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم "سکیورٹی زونز" میں موجود رہے گی اور کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری کارروائی کرے گی۔

 

اس تمام صورتحال کے دوران ایران نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی بحری گزرگاہ بدستور کھلی ہے اور تجارتی جہاز معمول کے مطابق آمدورفت کر رہے ہیں۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش ہیں، تاہم لبنان، حزب اللہ، ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات پر اختلافات بدستور برقرار ہیں، جس کے باعث سفارتی پیش رفت کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C