20/May/2025

اسماعیلی قصائیوں کیخلاف اعتراض: چترال میں مذہبی تنازع شدت اختیار کرنے لگا

👁️ 192 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسماعیلی قصائیوں کیخلاف اعتراض: چترال میں مذہبی تنازع شدت اختیار کرنے لگا

اسماعیلی قصائیوں کیخلاف اعتراض: چترال میں مذہبی تنازع شدت اختیار کرنے لگا

چترال (ڈیلی اردو) صوبہ خیبر پختونخوا کے چترال کے دور افتادہ اور پُرامن سمجھے جانے والے علاقے “گرم چشمہ” میں قصائی کاروبار سے جُڑا ایک مذہبی و سماجی تنازع سنگینی اختیار کر گیا ہے۔ اسماعیلی کمیونٹی، اہل سنت اور جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمان گروپ) کے مابین گوشت کی حلت اور کاروباری حق کے سوال پر تنازعہ بڑھنے کے بعد گزشتہ روز ضلعی انتظامیہ نے ایک اہم اجلاس طلب کیا، جو سات گھنٹے کی طویل بحث و مباحثے کے باوجود کسی متفقہ فیصلے کے بغیر ملتوی ہو گیا۔

پس منظر: اکثریت اور اقلیت کے بیچ بڑھتی خلیج

گرم چشمہ، وادی لٹکوہ کا مرکزی قصبہ، اسماعیلی اکثریتی علاقہ ہے، جہاں کی 98 فیصد آبادی کا تعلق اسماعیلی مسلک سے ہے۔ اسماعیلی کمیونٹی کا مؤقف ہے کہ وہ پاکستانی شہری اور مسلمان ہیں، اور ملکی آئین کے تحت انہیں کاروبار کی مکمل آزادی حاصل ہے، جس میں قصائی کا پیشہ بھی شامل ہے۔

دوسری جانب اہل سنت ( جے یو آئی ف) کے مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گرم چشمہ سے ذبح شدہ گوشت چترال شہر، دروش اور دیگر ملحقہ علاقوں میں سپلائی ہوتا ہے، اور ان کے عقیدے کے مطابق اسماعیلیوں کے ہاتھوں ذبح کیا گیا گوشت “امت” کے لیے حلال نہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اسماعیلی برادری قصائی کے پیشے سے باز رہے تاکہ دیگر مسلمانوں کو “حرام گوشت” کھانے سے روکا جا سکے۔

اجلاس: آئینی حق بمقابلہ مذہبی دعویٰ

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے طلب کردہ اجلاس میں متعدد اہم شخصیات شریک ہوئیں، جن میں سابق ایم پی اے مولانا عبد الرحمان کی قیادت میں جے یو آئی (ف) کا 12 رکنی وفد، اسماعیلی کونسل لوئر چترال کے صدر ظفر احمد، علاقہ لٹکوہ کی نمایاں سماجی و سیاسی شخصیات اور اسسٹنٹ کمشنر سمیت ضلعی انتظامیہ کے افسران شامل تھے۔

اجلاس میں مسئلے کے حل کے لیے چار تجاویز پیش کی گئیں:

1. آٹھ مارچ 2025 کے معاہدے کی بحالی: اس معاہدے کے تحت دونوں کمیونٹیز کو آزادی دی گئی تھی کہ وہ اپنی برادریوں کے علاقوں میں قصائی کاروبار کر سکتے ہیں۔

2. واضح شناخت کے ساتھ دکانیں:“اسماعیلی قصاب خانہ” اور “سنی قصاب خانہ” کے ناموں سے دکانیں کھولنے کی تجویز تاکہ گاہک اپنی پسند سے خریداری کر سکیں۔

3. 2002 ماڈل کی بحالی: بازار بالا (پن چکی نہر کے پار) میں اسماعیلی اور بازار پائیں میں سنی برادری کاروبار کرے، جبکہ دونوں کے درمیان ایک ’بفر زون‘ ہو جہاں کوئی قصائی کاروبار نہ ہو۔

4. بازار میں قصائی کاروبار پر پابندی: قصائی کاروبار کو صرف دیہات یا محلوں تک محدود رکھنے کی تجویز تاکہ عوامی جگہ پر کوئی مذہبی تصادم نہ ہو۔

تاہم اجلاس کسی بھی ایک تجویز پر اتفاق رائے حاصل کرنے میں ناکام رہا اور شرکاء نے مزید مشاورت کے لیے جمعرات تک مہلت مانگی۔ یوں اجلاس بغیر کسی فیصلہ کے ملتوی کر دیا گیا۔

2002 معاہدہ اور حالیہ فیصلے کا تسلسل

اسماعیلی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مقامی شہری یونس نے شندور فورم سے گفتگو میں بتایا: “یہ تنازع نیا نہیں ہے بلکہ 2002 میں بھی ایسا ہی ایک تنازع کھڑا ہوا تھا اور اس وقت بھی ایک معاہدہ کیا گیا تھا۔ اب دوبارہ معاہدہ طے پایا ہے جس کا مقصد مذہبی ہم آہنگی کو قائم رکھنا ہے۔” ان کے مطابق حالیہ معاہدے کے تحت اگر ایک فریق کی قصاب کی دکان دوسرے فریق کے اکثریتی علاقے میں ہے تو وہ دکان منتقل کی جائے گی، اور بازار کے بفر زون میں کسی بھی فریق کی نئی قصاب دکان کھولنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

نوجوانوں کا مؤقف: رواداری پر ضرب نہ لگائیں

گرم چشمہ کے اسماعیلی نوجوانوں اور باشعور شہریوں نے اس تنازع پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک غیر ضروری اور مصنوعی مسئلہ ہے، جس کا مقصد مذہبی ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنا ہے۔

شندور فورم سے بات کرتے ہوئے مقامی نوجوانوں کا کہنا تھا: “ہم ہمیشہ سنی بھائیوں کے ساتھ محبت اور احترام سے رہتے آئے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے گھروں میں کھاتے پیتے ہیں۔ مذہبی اختلاف کو کبھی نفرت میں نہیں بدلا۔ اب کچھ مخصوص عناصر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ہم مسلمان نہیں یا ہمارا گوشت حلال نہیں، جو نہ صرف ہماری توہین ہے بلکہ پاکستان کے آئین کے بھی خلاف ہے۔”

مارچ معاہدے پر نظرثانی کیوں؟

مقامی آبادی اور سوشل حلقے یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر آٹھ مارچ 2025 کو ضلعی انتظامیہ، علما اور دونوں کمیونٹیز کی باہمی رضامندی سے ایک تحریری معاہدہ طے پا چکا تھا، تو اب اس پر نظرثانی کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ کیا یہ آئین، معاہدوں اور مذہبی آزادی کے اصولوں کی خلاف ورزی نہیں؟

ان کا کہنا ہے کہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کو برابری کے حقوق دے، نہ کہ مذہبی بنیاد پر کسی ایک طبقے کو کاروبار سے روکنے کی اجازت دے۔

آگے کا راستہ: فیصلہ کن لمحہ

گرم چشمہ کا یہ تنازع محض ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان جیسے کثیر المذاہب و مسالک معاشرے کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ ریاستی ادارے کس طرح آئینی و جمہوری اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے مذہبی رواداری کو برقرار رکھتے ہیں، اور ایک ایسی پالیسی اختیار کرتے ہیں جو آئندہ نسلی و مسلکی بنیاد پر نفرت کا بیج نہ بوئے۔

شندور فورم یہ امید رکھتا ہے کہ جمعرات کو ہونے والا اگلا اجلاس بصیرت، تحمل، اور آئینی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا فیصلہ لے گا جو گرم چشمہ اور پورے خطے میں امن اور باہمی رواداری کو فروغ دے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C