22/July/2026

حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا

👁️ 22 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا

حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا

دوحہ/غزہ (ڈیلی اردو) فلسطینی تنظیم حماس نے خلیل الحیہ کو اپنا نیا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ یحییٰ السنوار کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جو اکتوبر 2024 میں غزہ میں اسرائیلی افواج کے ساتھ جنگ کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

 

یحییٰ السنوار اور اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد خلیل الحیہ، جو حماس کے جلاوطن سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں، تنظیم کی قیادت میں بتدریج ایک اہم اور بااثر شخصیت کے طور پر ابھرے۔ وہ حماس کے مرکزی مذاکرات کار بھی رہے ہیں اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ساتھ رابطوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

 

خلیل الحیہ کو حماس کے بیرون ملک سیاسی دفتر کے سربراہ خالد مشعل کے مقابلے میں زیادہ سخت گیر رہنما سمجھا جاتا ہے۔ دونوں رہنما تنظیم کی قیادت کے مضبوط امیدواروں میں شامل تھے، تاہم بالآخر حماس کی شوریٰ کونسل نے الحیہ کو نیا سربراہ منتخب کر لیا۔

 

رپورٹس کے مطابق یحییٰ السنوار کی ہلاکت کے بعد حماس کی قیادت عارضی طور پر پانچ رکنی اعلیٰ کونسل کے سپرد تھی، جس میں خلیل الحیہ، خالد مشعل اور دیگر سینئر رہنما شامل تھے۔ نئے سربراہ کے انتخاب کا عمل جنوری میں شروع ہوا تھا، تاہم غزہ، لبنان اور ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔

 

حماس کے سربراہ کا انتخاب تنظیم کی تقریباً 50 رکنی شوریٰ کونسل کرتی ہے، جس میں غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے، اسرائیلی جیلوں میں قید ارکان اور بیرون ملک مقیم حماس کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔

 

فلسطینی سیاسی تجزیہ کار ریحام عودہ کے مطابق خلیل الحیہ کا انتخاب اس بات کا اشارہ ہے کہ حماس مسلح مزاحمت کی اپنی پالیسی برقرار رکھنا چاہتی ہے اور غیر مسلح ہونے کے مطالبات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے بقول اس فیصلے سے ایران اور نام نہاد "محورِ مزاحمت" کے ساتھ حماس کے تعلقات بھی برقرار رہنے کا امکان ظاہر ہوتا ہے، جس سے مستقبل کے مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

 

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے میں حماس کو غیر مسلح کرنے، اسرائیلی فوج کے انخلا اور غزہ کا انتظام ایک ٹیکنوکریٹ فلسطینی انتظامیہ کے سپرد کرنے کی تجویز شامل ہے۔ تاہم حماس، مصر، قطر، ترکی اور دیگر ثالثوں کے درمیان جاری مذاکرات تاحال کسی جامع معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

 

حماس اس وقت اپنے قیام (1987) کے بعد کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد شروع ہونے والی غزہ جنگ نے تنظیم کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس پر غیر مسلح ہونے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ 

 

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ میں 73 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے، جبکہ اسرائیل اب بھی غزہ کے 60 فیصد سے زائد علاقے پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C