22/July/2026

ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں

👁️ 31 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں

ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں

اسلام آباد (نمائندہ ڈیلی اردو) ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے منگل کو اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، اقتصادی روابط، خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

 

وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

 

وزیراعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے مزید عدم استحکام پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک "دیانتدار اور مخلص ثالث اور سہولت کار" کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

شہباز شریف نے اس ماہ کے آغاز میں اپنے تہران کے دورے کا بھی ذکر کیا اور ایران کی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 

اعلامیے کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستانی قیادت کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور ایرانی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے اور باہمی روابط کو مضبوط بنانے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔

 

وزیراعظم ہاؤس کے مطابق اسکندر مومنی نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ان سفارتی کوششوں کو بھی سراہا جن کے نتیجے میں "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت" طے پائی۔

 

دوسری جانب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسکندر مومنی نے منگل کے روز پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی۔ دو سرکاری حکام نے، جنہوں نے بند کمرے میں ہونے والے مذاکرات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، بتایا کہ ملاقات میں علاقائی سکیورٹی، سرحدی تعاون اور ایران و امریکہ کے درمیان کشیدگی سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

 

یہ دورہ ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان معطل عبوری امن معاہدے کی بحالی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر چکا ہے۔ اسلام آباد کی کوشش ہے کہ جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جائے، تاہم تاحال کسی نئے معاہدے پر اتفاق کے آثار واضح نہیں ہیں۔

 

اسکندر مومنی اپنے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی کی دعوت پر اسلام آباد پہنچے ہیں۔ ان کے وفد میں ایرانی وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، وزارت ہائی وے و شہری ترقی، وزارت زراعت، قانون نافذ کرنے والے ادارے فراجا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی کسٹمز انتظامیہ کے اعلیٰ نمائندے بھی شامل ہیں۔

 

دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعاون، تجارتی روابط، ٹرانزٹ، کسٹمز، زرعی شعبے اور اقتصادی تعاون کے فروغ سے متعلق متعدد امور پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

 

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ دورہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی اس ہدایت کے تناظر میں ہو رہا ہے جس میں پاکستان کے ساتھ سالانہ تجارتی حجم کو موجودہ تقریباً 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

 

ایرانی وزیر داخلہ کا دورہ ایسے وقت میں جاری ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مسلسل دسویں روز بھی حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔ اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن اب بھی تہران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم ان کے بقول یہ مذاکرات "حقیقی معنوں میں سنجیدہ" ہونے چاہییں۔

 

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے منگل کو ایران کے فوجی کمانڈ سینٹرز، بحری تنصیبات، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C