06/December/2022

افغانستان: مزار شریف میں بس کے قریب دھماکا، 7 افراد ہلاک، 6 زخمی

👁️ 21 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان: مزار شریف میں بس کے قریب دھماکا، 7 افراد ہلاک، 6 زخمی

افغانستان: مزار شریف میں بس کے قریب دھماکا، 7 افراد ہلاک، 6 زخمی

کابل (اے پی، اے ایف پی، روئٹرز) افغان صوبے بلخ کے شہر مزار شریف میں ایک تیل کمپنی کے ملازمین کو لے جانے والی بس میں آج دھماکے سے کم از کم سات افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔ طالبان کی جانب سے ملک بھر میں سکیورٹی میں بہتری کے دعووں کے باوجود بم دھماکوں کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں۔

شمالی افغانستان کے صوبے بلخ کی پولیس کے ترجمان محمد آصف وزیری نے بتایا کہ “آج صبح تقریباً سات بجے بلخ میں ایک بس میں دھماکہ ہو گیا۔ اس بس پر ہراتن آئل کمپنی کے ملازمین سوار تھے۔ دھماکے میں سات افراد ہلاک ہو گئے جب کہ کم از کم چھ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ بم سڑک کے کنارے ایک ٹھیلے میں نصب کیا گیا تھا اور جیسے ہی بس وہاں پہنچی بم دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔

وزیری نے بتایا کہ ابھی تک کسی گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ پولیس تفتیش کر رہی ہے اور مجرموں کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ طالبان نے حالیہ دنوں پورے ملک میں سکیورٹی میں بہتری آنے کے دعوے کیے تھے۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصے میں درجنوں بم دھماکے اور حملے ہو چکے ہیں۔ ان حملوں اور دھماکوں میں سے اکثر کی ذمہ داری داعش کی مقامی یونٹ نے قبول کی ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں ایبک میں ایک مدرسے میں بم دھماکے میں کم از کم 19افراد ہلاک اور 24 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

اسی ماہ کے اوائل میں کابل میں سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار کی جماعت حزب اسلامی کے دفتر کے قریب حملہ ہواتھا۔ اس حملے میں دو افراد زخمی ہوگئے تھے تاہم پارٹی کے تمام سینیئر رہنما محفوظ رہے تھے۔

پاکستانی سفارت خانے پر حملے کی تحقیقات جاری
پاکستانی وزارت خارجہ نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کابل میں اس کے سفارت خانے پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ایک بیان میں کہا، “ہمیں یقین ہے کہ کابل میں ہمارے سفارت خانے کے ناظم الامورپر حملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ مجرموں اور منصوبہ سازوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔”

قبل ازیں افغانستان کی طالبان حکومت نے پیر کے روز کہا تھا کہ کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر ہونے والے دہشت گردانہ حملہ نامعلوم غیر ملکی گروپوں کے تعاون سے کیا گیا تھا، جس کا مقصد پاکستان کے ساتھ بے اعتمادی کی فضا قائم کرنا تھا۔

انہوں نے کہا،”اس حملے کے پیچھے چند غیر ملکی گروپوں کا ہاتھ ہے ان کا مقصد دو برادر ملکوں کے مابین بے اعتمادی پیدا کرنا ہے۔”

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ حملے کے سلسلے میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر داعش کا ایک غیر ملکی رکن ہے۔ انہوں نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ گرفتار کئے گئے شخص کا تعلق کس ملک سے ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C