11/September/2022

افغانستان میں طالبان کے زیر قبضہ امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک، 5 زخمی

👁️ 99 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان میں طالبان کے زیر قبضہ امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک، 5 زخمی

افغانستان میں طالبان کے زیر قبضہ امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک، 5 زخمی

کابل (ڈیلی اردو/وی او اے/رائٹرز) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کی تربیتی مشق کے دوران ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ اس واقعے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق امریکی ساختہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تربیتی مشق کے دوران نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے کیمپس میں فنی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا۔

طالبان کی وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی کے مطابق اس واقعے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

طالبان لگ بھگ ایک سال قبل اگست 2021 میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں برسر، اقتدار آئے تھے، جس کے بعد طالبان نے چند امریکی ساختہ ایئر کرافٹس قبضے میں لیے تھے جب کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی تعداد کتنی ہے۔

طالبان کے مطابق امریکہ کی فورسز نے افغانستان چھوڑتے ہوئے ملٹری ہارڈ ویئر کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا تھا جب کہ سابقہ حکومت کے ماتحت افغان فورسز چند ہیلی کاپٹرز وسطی ایشیائی ممالک میں اڑا کر لے گئے تھے جو اب بھی وہاں موجود ہیں۔

رواں سال اپریل میں امریکہ کے قانون سازوں کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں پینٹاگان نے تصدیق کی تھی کہ افغانستان میں امریکہ کی حمایت یافتہ حکومت کے زوال کے بعد طالبان کو لگ بھگ سات ارب ڈالر سے زائد مالیت کا امریکی فوجی ساز وسامان ہاتھ لگا تھا۔

یہ تفصیلات جو سب سے پہلے امریکہ کے نشریاتی ادارے ‘سی این این’ نے رپورٹ کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے افغانستان کی فوج کو طالبان، القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کے مقابلے میں کھڑا کرنے کے لیے کس قدر کوشش کی تھی۔

رپورٹ میں گزشتہ سال 30 اگست کو کابل کے بین الااقوامی ایئرپورٹ سے آخری امریکی فوجی کے روانہ ہونے کے بعد طالبان کے ہاتھ لگنے والے ساز وسامان کی مالیت کی تفصیل بھی دی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق 2005 سے 2021 تک افغان فوج کو فراہم کیے گئے 18 ارب 60 کروڑ ڈالر مالیت کے ہتھیار اور سازو سامان میں سے صرف سات ارب ڈالر کا سامان وہاں باقی رہ گیا تھا۔

محکمۂ دفاع کے ترجمان میجر روب لوڈویک کے مطابق اس میں ہوائی جہاز، گاڑیاں، گولہ بارود، بندوقیں اور مواصلاتی ساز وسامان کے ساتھ مرمت کے قابل دیگر اشیا بھی شامل تھیں۔

انہوں نے زور دیا تھا کہ یہ سامان افغان حکومت کی ملکیت تھا، جو اب ختم ہوچکی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C