افغان طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تقریباﹰ 3 ہزار ارکان کو برطرف کردیا
👁️ 28 بار دیکھا گیا
افغان طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تقریباﹰ 3 ہزار ارکان کو برطرف کردیا
کابل (ڈیلی اردو/اے ایف پی) افغانستان میں حکمران طالبان تحریک نے کہا ہے کہ اس نے اپنے تقریباﹰ تین ہزار ارکان کو ناجائز اور استحصالی اقدامات کے باعث سزا کے طور پر اپنی صفوں سے نکال دیا ہے۔ یہ بات ملکی وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتائی۔
ایک سرکردہ حکومتی اہلکار کے مطابق ایسا طالبان کے گزشتہ برس موسم گرما میں اقتدار میں آنے کے بعد شروع کیے گئے جواب دہی کے ملک گیر عمل کے دوران کیا گیا۔ کابل میں افغان وزارت دفاع کے ایک پینل کے سربراہ لطیف اللہ حکیمی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مجموعی طور پر 2840 ارکان کو طالبان تحریک افغانستان سے نکالا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ افراد افغانستان میں اسلامی حکومت کا نام بدنام کر رہے تھے اور طالبان کی اپنی صفوں میں صفائی کے اس عمل کا مقصد مستقبل میں بہتر فوج اور مؤثر پولیس کی تشکیل ہے۔
عوام سے ماضی کے مقابلے میں نرمی کا وعدہ
طالبان نے ہندوکش کی اس ریاست سے امریکا اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجی دستوں کے حتمی انخلا کے بعد اور مجموعی طور پر اپنی 20 سالہ مسلح جدوجہد کے بعد ایک بار پھر اقتدار سنبھالا تھا۔ اس موقع پر گزشتہ برس اگست میں ملک میں نئی طالبان انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے 1996ء سے لے کر 2001ء تک جاری رہنے والے پہلے دور اقتدار کے مقابلے میں اپنے طرز حکومت میں نرمی لائے گی۔
تقریباﹰ اسی وقت طالبان کی حکومت نے ایک ایسا کمیشن بھی قائم کر دیا تھا، جس کا کام اس تحریک کے ایسے ارکان کی نشاندہی تھا، جو اس موومنٹ کے طے کردہ ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہوں۔
منشیات کے کاروبار اور کرپشن میں ملوث
لطیف اللہ حکیمی کے مطابق اب تک اس تحریک سے سزا کے طور پر جن ہزاروں افراد کو نکالا جا چکا ہے، ان کے خلاف استحصالی رویوں، بدعنوانی میں ملوث ہونے، منشیات کے کاروبار کا حصہ ہونے اور عام شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت جیسے الزامات ثابت ہو گئے تھے۔
حکیمی کے مطابق، ”ان میں سے کچھ کے تو اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے ساتھ روابط بھی تھے۔‘‘ طالبان تحریک کے ان تین ہزار کے قریب ارکان کو زیادہ تر افغانستان کے 14 مختلف صوبوں میں تحریک کی صفوں سے خارج کیا گیا۔
حکیمی کے الفاظ میں، ”تحریک کی اپنی صفوں میں صفائی کا یہ عمل آئندہ بھی جاری رہے گا اور اس صفائی کا دائرہ دیگر افغان صوبوں تک بھی پھیلا دیا جائے گا۔‘‘
انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی تنظیموں کا الزام ہے کہ دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے طالبان کے کئی جنگجو افغانستان کے سابق سکیورٹی اہلکاروں کے ماورائے عدالت قتل کے مرتکب بھی ہوئے ہیں، حالانکہ طالبان کے رہنما ہیبت اللہ اخوند زادہ نے کابل پر پچھلے سال قبضے کے بعد ہر کسی کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا تھا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لبنان میں اسرائیلی حملے، بچے سمیت 7 افراد ہلاک، جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں
22/June/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
22/June/2026 👁️ 79 بار دیکھا گیا
کریمیا پر یوکرین کا بڑا حملہ، 4 افراد ہلاک، ایندھن کی فروخت معطل
21/June/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
یورینیم افزودگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی صدر پزشکیان
21/June/2026 👁️ 104 بار دیکھا گیا
کراچی میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، خودکش بمبار گرفتار، جیکٹ برآمد
21/June/2026 👁️ 97 بار دیکھا گیا
لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ
21/June/2026 👁️ 93 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8846 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4599 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2466 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2118 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1915 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C