22/March/2026

امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں مزید میرینز اور بحری بیڑوں کی تعیناتی

👁️ 169 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں مزید میرینز اور بحری بیڑوں کی تعیناتی

امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں مزید میرینز اور بحری بیڑوں کی تعیناتی

واشنگٹن (ڈیلی اردو/اے پی/روئٹرز) اسرائیل اور ایران نے ہفتے کے روز ایک دوسرے پر حملے کیے جبکہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزید ہزاروں فوجی بھیج رہا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر آبنائے ہرمز کھولنے میں ہچکچاہٹ پر ’’بزدلی‘‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

 

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے اب تک 2,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ان میں تیرہ سو سے زائد ایران جبکہ ایک ہزار سے زائد لبنان میں مارے گئے ہیں۔  جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی مزید پھیلتی جا رہی ہے۔ 

 

ایران اور خلیجی ممالک میں توانائی کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا اور عالمی معیشت کو شدید دھچکے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

 

اسرائیل کے مطابق ہفتے کے روز ایران پر حملوں میں دارالحکومت تہران، اس کے مغرب میں واقع کرج اور وسطی شہر اصفہان کو نشانہ بنایا گیا۔

 

اسی دوران امریکی حکام کے مطابق 2,500 میرینز، جنگی جہاز یو ایس ایس باکسر اور دیگر جنگی بحری جہاز خطے میں بھیجے جا رہے ہیں، تاہم ان کے کردار کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ روئٹرز اور ایپسوس سروے کے مطابق تقریباً دو تہائی امریکیوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ بڑی زمینی جنگ کا حکم دے سکتے ہیں، جبکہ صرف سات فیصد اس کی حمایت کرتے ہیں۔

 

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران میں فوج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم ممکنہ اہداف میں ایران کا ساحل یا خارگ آئل ٹرمینل شامل ہو سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ وہ ’’کہیں بھی فوج نہیں بھیج رہے،‘‘ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ ایسا کرتے تو اس کا اعلان نہیں کرتے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C