11/June/2026

امریکی حملے میں ایران کے بریگیڈیئر جنرل غلام علی طہماسبی ہلاک

👁️ 93 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی حملے میں ایران کے بریگیڈیئر جنرل غلام علی طہماسبی ہلاک

امریکی حملے میں ایران کے بریگیڈیئر جنرل غلام علی طہماسبی ہلاک

واشنگٹن (ڈیلی اردو رپورٹ) امریکی فضائی حملوں میں ایران کے بریگیڈیئر جنرل پائلٹ غلام علی طہماسبی، جو کرمان ایئر بیس کے کمانڈر تھے، ہلاک ہو گئے ہیں۔

 

ایرانی ذرائع کے مطابق حملہ کرمان ایئر بیس اور اس کے اطراف میں کیا گیا، جس کے نتیجے میں طہماسبی ہلاک ہوئے۔ وہ ایران کی فضائیہ کے سینئر افسران میں شمار کیے جاتے تھے اور کرمان ایئر بیس کی کمان سنبھال رہے تھے۔

 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران میں متعدد اہداف پر نئی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ 

 

سینٹکام کے مطابق یہ حملے ایران کی "بلاجواز اور مسلسل جارحیت" کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔

 

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران، مغربی تہران، بندر عباس، میناب، سیریک، قشم، ہینگام، جزیرہ کیش، صوبہ فارس اور بندرگاہ گرگان سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جبکہ بعض مقامات پر فضائی دفاعی نظام بھی فعال کر دیا گیا ہے۔

 

ڈیلی اردو کے مطابق امریکی حملوں میں جنوبی ایران میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات، کمیونیکیشن سسٹمز اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ امریکی میرین کور، فضائیہ اور بحریہ نے مشترکہ کارروائیوں میں ایرانی فضائی دفاعی اور نگرانی کے نظام کو ہدف بنایا۔

 

دوسری جانب ایرانی خبر رساں اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔

 

تاہم سینٹکام نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی امریکی جنگی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔

 

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر بمباری جلد روک دی جائے گی کیونکہ ایرانی رہنماؤں نے ان سے بمباری بند کرنے کی درخواست کی ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی فوج نے ایران پر 49 ٹوماہاک میزائل داغے ہیں۔

 

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں اسرائیل شامل نہیں ہے، تاہم اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو بمباری مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

 

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع نے ایران پر بڑے حملوں کا عندیہ دیا تھا۔ 

 

امریکی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا اور یہ حملے امریکی مفادات کے تحفظ اور سفارتی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کیے جائیں گے۔

 

ادھر امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خطے میں 18 اہم امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق کویت کے علی السالم اور احمد الجابر ایئر بیسز سمیت بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

 

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی حملوں کے جواب میں کی گئیں، تاہم امریکی سینٹکام نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حملوں سے متعلق دعوے درست نہیں ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C