افغانستان: حجاب مخالف مظاہرین پر طالبان کی فائرنگ، 2 افراد ہلاک، متعدد زخمی
👁️ 380 بار دیکھا گیا
افغانستان: حجاب مخالف مظاہرین پر طالبان کی فائرنگ، 2 افراد ہلاک، متعدد زخمی
کابل (ڈیلی اردو/ اے ایف پی/اے پی/روئٹرز) افغانستان کے شہر ہرات میں خواتین کی گرفتاریوں کے خلاف منگل کے روز ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے طالبان سکیورٹی اہلکاروں نے مبینہ طور پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور کئی افراد زخمی ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً 200 افغان مرد مغربی شہر ہرات میں جمع ہوئے تھے تاکہ ان ایک درجن سے زائد خواتین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر سکیں جنہیں گزشتہ ہفتے مکمل چادر یا چہرہ ڈھانپنے والے برقع کے بغیر عوامی مقامات پر آنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ایک عینی شاہد نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے ''لاٹھیوں، کوڑوں اور اسلحے‘‘ کا استعمال کیا۔ اس کے بقول، ''انہوں نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔‘‘
طبی عملے نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ احتجاج کے دوران دو افراد ہلاک ہوئے، تاہم انھوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔ اس احتجاج میں شریک متعدد دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں
ایک اور عینی شاہد نے بھی فضا میں فائرنگ ہوتے دیکھی۔ اس نے کہا، ''کئی لوگ زخمی ہوئے۔ میں نے سڑک پر خون بھی دیکھا۔‘‘
تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ زخمی افراد گولیوں سے زخمی ہوئے یا لاٹھیوں کی مار سے، اور نہ ہی زخمیوں کی درست تعداد کی تصدیق ہو سکی ہے۔
احتجاجی مظاہرے کو کوریج کرنے والے ایک فوٹوگرافر نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے سکیورٹی اہلکاروں کو ''مظاہرین کو مارتے اور ہجوم کی جانب ہتھیار چلاتے‘‘ دیکھا۔ اس کے مطابق، ''خاصی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔‘‘
دوسری جانب ہرات پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ کچھ افراد نے حجاب سے متعلق قوانین کے خلاف احتجاج کے بہانے جمع ہو کر کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔
ترجمان کے مطابق،''سکیورٹی فورسز کی بروقت موجودگی کی بدولت صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں کر لیا گیا اور مزید کشیدگی کو روک دیا گیا۔‘‘
رپورٹس کے مطابق اس احتجاج کا اہتمام سوشل میڈیا کے ذریعے کیا گیا تھا، جہاں شہریوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ ''اپنی بہنوں کے حقوق کے دفاع‘‘ کے لیے باہر نکلیں۔
افغانستان میں اس نوعیت کی شہری مزاحمت شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔2021 میں امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد، جب طالبان دوبارہ اقتدار میں آ ئے، تب سے انہوں نے شریعت کی اپنی سخت تشریح کے مطابق قوانین نافذ کر رکھے ہیں۔
ان ضوابط میں خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیاں شامل ہیں، جن کے تحت پرائمری تعلیم سے آگے تعلیم حاصل کرنے پر قدغن اور خواتین کے لباس سے متعلق سخت قواعد نافذ کیے گئے ہیں۔
ان قوانین پر عمل درآمد طالبان کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بدنام زمانہ 'اخلاقی پولیس‘ کے ذریعے کرایا جاتا ہے۔ حکومت کے خلاف اختلاف رائے برداشت نہیں کیا جاتا اور سرکاری فیصلوں کے خلاف احتجاج غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ''ہرات میں خواتین کی گرفتاریوں سے متعلق پھیلائی جانے والی تمام باتیں محض افواہیں ہیں۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ حجاب پہننا ’’حکم الٰہی‘‘ہے اور ''یہ ایک ایسا قانون ہے جس پر عمل درآمد کرانا ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘
خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے ایک انسانی حقوق کے نگران ادارے کے نمائندے نے بتایا کہ انہوں نے جمعہ سے اب تک ہرات میں لباس سے متعلق ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر کم از کم 16 خواتین کی گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی افغانستان ریسرچر، فرشتہ عباسی، نے کہا کہ طالبان کی جانب سے ''مہلک طاقت کے استعمال‘‘ پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے نامناسب لباس کے نام پر خواتین کی ''من مانی گرفتاریوں‘‘ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
فرشتہ عباسی نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ ''پرامن احتجاج میں حصہ لینے کے باعث گرفتار کیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کریں اور زخمیوں کو مناسب طبی سہولیات فراہم کریں۔‘‘
دریں اثنا، افغانستان میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی تحقیق کار، رچرڈ بینیٹ، نے کہا کہ وہ ہرات میں بظاہر پرامن مظاہرین کے خلاف ''ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال‘‘ پر فکر مند ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تشدد کے ذمہ دار عناصر کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا، ''اب وقت آ گیا ہے کہ کشیدگی کو کم کیا جائے، شہریوں بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کی آزادیِ اظہار کا احترام کیا جائے، اور مزید نقصان سے بچا جائے۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
یمن میں فضائی حملوں اور جھڑپوں میں 70 سے زائد حوثی باغی ہلاک، درجنوں زخمی
31/October/2026 👁️ 38 بار دیکھا گیا
خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے دوبارہ بڑھتے واقعات تشویشناک، گورنر راج کا فیصلہ ناگزیر تھا: وزیراعظم
31/October/2026 👁️ 60 بار دیکھا گیا
لکی مروت میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس آپریشن، کواڈ کاپٹر حملوں سے منسلک 4 مبینہ دہشتگرد ہلاک
31/October/2026 👁️ 49 بار دیکھا گیا
دوحہ میں ایرانی وفد کی موجودگی کی تصدیق، امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں، عباس عراقچی
31/October/2026 👁️ 79 بار دیکھا گیا
ایران کو کسی بھی خطرے کا فوری اور جغرافیائی حدود سے آزاد جواب دیا جائے، مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلح افواج کو ہدایت
31/October/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
شمالی وزیرستان ، لکی مروت میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملے، ایک شخص ہلاک، متعدد مکانات کو نقصان
31/October/2026 👁️ 50 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26414 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15650 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11954 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9317 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7571 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5548 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C