20/November/2019

انقلابی شاعر اور دانشور فیض احمد فیض کی 35 ویں برسی منائی گئی

👁️ 33 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
انقلابی شاعر اور دانشور فیض احمد فیض کی 35 ویں برسی منائی گئی

انقلابی شاعر اور دانشور فیض احمد فیض کی 35 ویں برسی منائی گئی

لاہور (ڈیلی اردو) ترقی پسند نظریات اور انقلاب کو موتیوں کی خوبصورت لڑی میں پرو کر پیش کرنے والے شاعر فیض احمد فیض کو ہم سے بچھڑے 35 برس بیت گئے ہیں۔

معاشرتی مساوات، شخصی آزادی، انسانی حقوق کے علمبردار اور اردو کے عہدساز شاعر فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو پبجاب کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی تعلیم مولوی شمش الحق سے حاصل کی جو مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کے بھی استاد تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگلش اور اورنیٹل کالج لاہور ایم اے عربی سے کیا۔

فیض احمد فیض کے ذکر کے بغیر اردو ادب کی تاریخ ادھوری ہے۔ علم و ادب کے افق کے درخشاں ستارے اور انقلابی شاعر متعدد کتابوں کے مصنف اور درجنوں مشہور نغمات کے خالق تھے۔

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

وہ پسی ہوئی انسانیت کے لیے ضمیر اور یقین کی آواز بن گئے۔ نقش فریادی، دست صباء، زنداں نامہ، سروادی سینا، شام، شہر یاراں اور میرے دل میرے مسافر ان کے کلام کے مجموعے ہیں۔ سارے سخن ہمارے اور نسخہ ہائے وفا ان کی کلیات ہیں۔

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

فیض احمد فیض نے اپنی شاعری اور نثری تحریروں میں مظلوم انسانوں کے حق میں آواز اٹھائی اور انسان پر انسان کے جبر کو قبول کرنے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں انہیں مخالفتوں کا سامنا بھی رہا اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔

یہ خوں کی مہک ہے کہ لب یار کی خوشبو
کس راہ کی جانب سے صبا آتی ہے دیکھو

فیض احمد فیض کو علمی و ادبی خدمات پر متعدد عالمی اور قومی اعزازات سے نوازا گیا۔

تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے

فیض احمد فیض 20 نومبر 1984ء کو جہاں فانی سے کوچ کر گئے وہ گلبرگ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C