15/January/2026

ایران پر فوری امریکی حملے کے امکانات، 24 گھنٹوں میں کارروائی کا خدشہ

👁️ 169 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران پر فوری امریکی حملے کے امکانات، 24 گھنٹوں میں کارروائی کا خدشہ

ایران پر فوری امریکی حملے کے امکانات، 24 گھنٹوں میں کارروائی کا خدشہ

واشنگٹن (ش ح ط) برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران پر امریکا کے فوری حملے کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے، جبکہ تمام اشارے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ کارروائی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔

 

روئٹرز کے مطابق تمام اشارے ہیں کہ ایران پر عنقریب حملہ ہونے والا ہے۔

 

مغربی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ غیر متوقع پن امریکی حکمت عملی کاحصہ ہے۔

 

خبر رساں ادارے کے مطابق دو یورپی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران پر امریکی فوجی مداخلت کا قوی امکان موجود ہے۔

 

اسی دوران امریکی فوجی نقل و حرکت میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی فوج کے 8 ایندھن بردار ٹینکر طیارے پرل ہاربر سے روانہ ہو چکے ہیں اور ان کا رخ ایران کی سمت سمجھا جا رہا ہے۔

 

اس کے علاوہ امریکا نے اپنا کیریئر اسٹرائیک گروپ بھی مشرقِ وسطیٰ کی جانب منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

 

مزید اطلاعات کے مطابق، متعدد امریکی فضائی طیارے القاعدید ایئر بیس، قطر سے اڑان بھر چکے ہیں، جن میں KC-135R ایریئل ریفیولنگ طیارے اور B-52 اسٹریٹیجک بمبار شامل ہیں۔

کئی ریفیولنگ طیارے اس وقت فضا میں موجود ہیں، تقریباً 23,975 فٹ کی بلندی اور 406 ناٹ کی رفتار سے پرواز کر رہے ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق مغربی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اچانک اور غیر متوقع حملہ امریکی فوجی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں ایران نے اپنی فضائی حدود تمام پروازوں کے لیے بند کر دی ہیں۔

 

برطانیہ نے عارضی طور پر تہران میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا ہے، جبکہ کئی مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

 

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب، عمان اور قطر نے امریکا پر زور دیا تھا کہ ایران پر حملہ نہ کیا جائے، تاہم متحدہ عرب امارات (UAE) نے ان کوششوں میں حصہ نہیں لیا۔

 

امریکہ کی جانب سے قطر میں موجود اپنے سفارتی عملے اور شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے اور العدید ایئر بیس کا غیر ضروری سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

 

دوحہ میں موجود امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ جاری علاقائی کشیدگی کے پیش نظر، دوحہ میں امریکی سفارت خانے نے اپنے اہلکاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ زیادہ احتیاط برتیں اور العدید ایئربیس کا غیر ضروری سفر نہ کریں۔

 

سفارتخانے کی جانب سے امریکی شہریوں کو بھی ان ہدایات پر عمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر میں امریکی سفارتخانہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے تاہم فی الحال سفارت خانے کے عملے اور آپریشنز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، اور قونصلر خدمات معمول کے مطابق جاری ہیں۔

 

ایران نے اسی تناظر میں اپنی فضائی حدود تمام پروازوں کے لیے بند کر دی ہیں۔

 

دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بعض فوجی اڈوں سے عملے کا انخلا بھی شروع کر دی گئی ہے۔

 

ادھر ایک اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ بظاہر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی مداخلت کا فیصلہ کر چکے ہیں، تاہم حملے کی نوعیت اور وقت تاحال واضح نہیں۔

 

مزید معلومات آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کی جائے گی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C