01/October/2026

ایران کو تباہ کرنے سے دنیا میں امن قائم ہوگا، ٹرمپ ،جنگ بندی نہ ہوئی تو کارروائی بڑھانے کا عندیہ

👁️ 138 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کو تباہ کرنے سے دنیا میں امن قائم ہوگا، ٹرمپ ،جنگ بندی نہ ہوئی تو کارروائی بڑھانے کا عندیہ

ایران کو تباہ کرنے سے دنیا میں امن قائم ہوگا، ٹرمپ ،جنگ بندی نہ ہوئی تو کارروائی بڑھانے کا عندیہ

واشنگٹن(ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ ایسا معاہدہ نہ ہوسکا جو واشنگٹن کو قابلِ قبول ہو تو امریکا جنگ ختم کرنے کے بجائے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مزید بڑھانے پر غور کرسکتا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بات امریکی جریدے ’’ٹائم‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک ایران کو ’’تباہ‘‘ کرنے سے دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے، جبکہ ایران کی موجودگی میں عالمی امن کا حصول ممکن نہیں۔

نومبر کے بعد کارروائی بڑھانے کا عندیہ

ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ اگر موجودہ تنازع کا ان کی شرائط کے مطابق حل نہ نکلا تو نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شدت لائی جا سکتی ہے۔ ان کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایران نے قطر کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، تاہم ٹرمپ اس منصوبے کو مسترد کرچکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے امکانات بدستور غیر یقینی ہیں۔

امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ

ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے باعث امریکی بعض اقسام کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر میں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ دفاعی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے دفاعی کمپنیوں ریتھیون اور لاک ہیڈ مارٹن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے اور نئے پیداواری مراکز قائم کرنے پر کام کر رہا ہے، جن میں پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل دفاعی نظام سے متعلق پیداواری صلاحیت بھی شامل ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے میزائلوں کے ذخائر اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بڑے دفاعی معاہدے بھی کیے ہیں، جن میں ریتھیون کے ساتھ ای ایم آر اے اے ایم میزائلوں اور لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی پیداوار سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی جاری

سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہیں۔ قطر کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں، جبکہ ایران نے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق تجاویز پیش کی ہیں۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ مستقبل کے جوہری مذاکرات اس کی بعض شرائط پوری ہونے سے مشروط ہوں گے، جبکہ امریکا کی جانب سے ایران پر دباؤ برقرار ہے۔ موجودہ صورتحال میں عسکری دباؤ اور سفارتی کوششیں بیک وقت جاری ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C