19/March/2025

بنگلہ دیش میں روہنگیا باغی گروپ کے سرکردہ رہنما کی گرفتاری

👁️ 70 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بنگلہ دیش میں روہنگیا باغی گروپ کے سرکردہ رہنما کی گرفتاری

بنگلہ دیش میں روہنگیا باغی گروپ کے سرکردہ رہنما کی گرفتاری

ڈھاکا (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) اراکان روہنگیا سالویشن آرمی کے سربراہ عطاء اللہ ابوعمار جنونی پر 2017 کے مہلک حملوں کا الزام ہے، جس کے سبب میانمار میں وحشیانہ فوجی کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا تھا۔ اس کی وجہ سے لاکھوں روہنگیا مسلمان فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔

بنگلہ دیش میں حکام نے منگل کے روز بتایا کہ پولیس نے ایک روہنگیا باغی گروپ کے رہنما کو گرفتار کر لیا ہے، جو مبینہ طور پر میانمار کی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں ملوث تھے۔

پولیس افسر پریتوش کمار مجمدار نے میڈیا کو بتایا کہ اراکان روہنگیا سالویشن آرمی (اے آر ایس اے) کے 48 سالہ سربراہ عطاء اللہ ابو عمار جنونی کو دارالحکومت ڈھاکہ کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق ان پر قتل اور تخریب کاری کی کارروائیوں کا شبہ ہے۔

بنگلہ دیش کی ایلیٹ ریپڈ ایکشن بٹالین نے منگل کے روز عطاء اللہ ابو عمار جنونی اور ان کے پانچ دیگر ساتھیوں کو گرفتار کیا۔ پولیس نے بتایا کہ ان کے مزید چار دیگر ساتھیوں کو وسطی ضلع میمن سنگھ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس نے گرفتاری سے قبل انہیں پوچھ گچھ کے لیے اپنی تحویل میں لیا تھا۔

پولیس انسپکٹر قیوم خان نے بتایا کہ حراست میں لینے کے بعد ملزمان کو ایک ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں قتل، تخریب کاری اور بنگلہ دیش میں غیر قانونی داخلے کے الزامات کے سلسلے میں تفتیش کے لیے 10 روزہ ریمانڈ کی منظوری دی۔

اے آر ایس اے کی ‘مجرمانہ’ سرگرمیاں

اراکان روہنگیا سالویشن آرمی (اے آر ایس اے) کو میانمار میں بے وطن مسلم اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف ایک باغی گروپ کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی ایک رپورٹ کے مطابق ابو عمار جنونی نے سن 2016 سے میانمار کی شمالی ریاست رکھائن میں باغی گروپ کی سربراہی کا آغاز کیا تھا۔

جب جنونی 2017 میں اے آر ایس اے کی قیادت کر رہے تھے، تو اسی دوران اس گروپ پر رکھائن میں سکیورٹی چوکیوں پر ہلاکت خیز حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی سن 2017 کے ان حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ وہ سب سے پہلے آن لائن پوسٹ کی جانے والی ایسی ویڈیوز کے ذریعے عوام کے سامنے ظاہر ہوئے، جس میں انہیں نقاب پوش بندوق برداروں کے ساتھ روہنگیا مسلمانوں کو “غیر انسانی جبر” سے آزاد کرانے کا عہد کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

سن 2017 کے حملوں کے بعد ہی میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ فوجی کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا، جس کی وجہ سے تقریبا ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔

ابو عمار جنونی پر بنگلہ دیش کی ملٹری انٹیلیجنس کے ایک افسر کے قتل میں بھی ملوث ہونے کا الزام ہے۔

اے آر ایس اے پر سرحد پار منشیات کی اسمگلنگ، اغوا، بھتہ خوری اور بنگلہ دیشی مہاجر کیمپوں میں تشدد جیسی کارروائیاں کرنے کا بھی الزام ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C