07/May/2025

بھارتی حملے: مسعود اظہر کے اہلخانہ ہلاک، جنازے میں سینیئر فوجی افسران کی موجودگی؟ پاکستان کی ساکھ خطرے میں

👁️ 104 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بھارتی حملے: مسعود اظہر کے اہلخانہ ہلاک، جنازے میں سینیئر فوجی افسران کی موجودگی؟ پاکستان کی ساکھ خطرے میں

بھارتی حملے: مسعود اظہر کے اہلخانہ ہلاک، جنازے میں سینیئر فوجی افسران کی موجودگی؟ پاکستان کی ساکھ خطرے میں

واشنگٹن (ش ح ط) گزشتہ شب بھارتی فضائیہ نے پاکستان میں متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے، جن کا نشانہ مبینہ طور پر کالعدم شدت پسند تنظیموں کے مراکز تھے۔ ان حملوں میں کم از کم 31 افراد ہلاک جبکہ 57 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

لاہور کے نواحی علاقے مریدکے میں واقع کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کا مرکزِ طیبہ بھی حملے کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں مرکز کے انچارج اور کمانڈر عبدالملک ہلاک ہو گئے۔ انہیں ان کے آبائی علاقے خانیوال میں سپرد خاک کیا گیا۔ اسی حملے میں تنظیم کے اہم کمانڈر ابو عکاشہ اور ان سے منسلک ایک اور کارکن مدثر بھی مارے گئے۔ ابو عکاشہ کو سمندری، فیصل آباد اور مدثر کو آلہ آباد، قصور میں دفنایا گیا۔

حیران کن طور پر ان جنازوں کی تصاویر اور ویڈیوز میں پاکستان کے اعلیٰ فوجی اور پولیس افسران، بشمول پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل، کی موجودگی دیکھی جا سکتی ہے۔ ان مناظر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ملک کے اندر اور عالمی سطح پر شدید تنقید اور سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب، بہاولپور میں بھارتی فضائیہ کے ایک اور بڑے حملے میں جامع مسجد سبحان اللّٰہ اور اس سے منسلک ایک مدرسے کو نشانہ بنایا گیا، جو مبینہ طور پر کالعدم تنظیم جیش محمد سے وابستہ تھا۔

کالعدم تنظیم کے سربراہ مولانا مسعود اظہر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں ان کے 10 قریبی رشتہ دار اور 4 ساتھی ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان جنازوں کی تصاویر میں بھی اعلیٰ ریاستی اہلکاروں کی موجودگی دیکھی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں اور ان کے خاندانوں کے جنازوں میں ریاستی اداروں کے سینیئر افسران کی موجودگی پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔

یاد رہے کہ مولانا مسعود اظہر ان چند جہادی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جن کا پورا خاندان کئی دہائیوں سے عسکری سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ ان کے دو بھتیجے مقبوضہ کشمیر میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے یکم مئی 2019 کو مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا، جبکہ امریکہ پہلے ہی جیش محمد کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (FTO) تسلیم کر چکا ہے۔ پاکستان نے بھی تنظیم پر باضابطہ پابندی عائد کر رکھی ہے، تاہم ریاستی سطح پر ان عناصر کے ساتھ تعلقات اور ان کے جنازوں میں شرکت کئی بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی پوزیشن کو متنازع بنا سکتی ہے۔

مسعود اظہر

مسعود اظہر کا نام پہلی بار 1995 میں منظر عام پر آیا جب کشمیر میں غیر ملکی سیاحوں کے اغوا میں ان کا نام آیا۔
پھر دسمبر 1999 میں انڈین طیارے کی قندھار ہائی جیکنگ ہوئی، جس کے بدلے انہیں رہا کیا گیا۔

رہائی کے بعد انہوں نے کراچی میں جیش محمد کی بنیاد رکھی، جو بعد میں کئی سنگین حملوں میں ملوث رہی:

اپریل 2000: سری نگر میں بھارتی فوجی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ

اکتوبر 2001: جموں و کشمیر اسمبلی پر حملہ

دسمبر 2001: انڈین پارلیمنٹ پر حملہ

جنوری 2016: پٹھان کوٹ ایئربیس حملہ

ستمبر 2016: اوڑی حملہ

فروری 2019: پلوامہ خودکش حملہ

’’عالمی دباؤ اور پابندیاں‘‘

پلوامہ حملے کے بعد عالمی دباؤ بڑھا اور اقوام متحدہ نے 2019 میں انہیں عالمی دہشت گرد قرار دے دیا۔

امریکہ پہلے ہی جیش محمد کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا تھا۔

پاکستان نے جیش پر پابندی تو لگائی، لیکن تنظیم نئے ناموں سے سرگرم رہی۔

لشکرِ طیبہ: ممبئی حملے اور موجودہ صورتحال

دوسری طرف، لشکرِ طیبہ یا ’’پاک لشکر‘‘، جسے عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے، 1987 میں حافظ سعید نے قائم کی۔

ان کی کارروائیوں کا مرکز بھارتی زیر انتظام کشمیر تھا۔

اقوام متحدہ اور بھارت کے مطابق، یہ تنظیم 2008 کے ممبئی حملوں میں ملوث تھی، جن میں 166 افراد ہلاک ہوئے۔

حافظ سعید ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں، اور پاکستان میں انہیں دہشتگردی کی مالی معاونت پر 31 سال قید کی سزا ہو چکی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C