28/February/2023

بیلاروس میں حکومت مخالف کارکنوں کا ڈرون حملہ، روسی جاسوس طیارہ تباہ

👁️ 35 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بیلاروس میں حکومت مخالف کارکنوں کا ڈرون حملہ، روسی جاسوس طیارہ تباہ

بیلاروس میں حکومت مخالف کارکنوں کا ڈرون حملہ، روسی جاسوس طیارہ تباہ

منسک (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) بیلا روس کے حکومت مخالف کارکنوں نے منسک کے قریب نگرانی کرنے والے روسی طیارے پر ڈرون سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دریں اثناء روس نے کہا ہے کہ چین کے امن منصوبے کا بغور جائزہ لیا جائے۔

بیلاروس میں حکومت مخالف کارکنوں نے منسک کے قریب ایک ہوائی اڈے پر A-50 طرز کے ایک روسی طیارے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خفیہ کارروائی ڈرون کے ذریعے کی گئی۔

‘بائی پول اپوزیشن‘ تنظیم کے رہنما، آلیکسانڈر آزاراؤ نے پولینڈ میں مقیم جلاوطن میڈیا چینل بیلساٹ کو بتایا کہ مچولیشچی حملہ ملک سے فرار ہونے والے بیلا روسیوں نے کیا تھا اور اب وہ ”محفوظ ہاتھوں‘‘ میں ہیں۔

بیلاروسی اپوزیشن لیڈرسویٹلانا تسخانوسکایا کے مشیر فراناک ویاکورکا نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں اس حملے کو سراہتے ہوئے تحریر کیا کہ 2022ء کے آغاز کے بعد سے اب تک کا یہ ”سب سے کامیاب موڑ‘‘ ہے۔ بیلاروس کے حامیوں کو انہوں نے خراج تحسین پیش کیا۔

حملے کا نشانہ بننے والے روسی طیارے، بیرییف A-50 کمانڈ اینڈ کنٹرول کی صلاحیتیں رکھتا ہے اور یہ بیک وقت 60 اہداف کو ٹریک کرنے کا متحمل ہے۔

ایک سال قبل یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے بیلاروس میں تخریب کاری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ اس کی سرحدیں یوکرین اور روس دونوں سے ملتی ہیں۔ ملک کے مطالق العنان رہنما آلیکسانڈر لوکاشینکو تاہم روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی حکومت پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔ گزشتہ برس منسک نے ماسکو کو یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی مکمل اجازت دی تھی۔

اُدھر ماسکو نے کہا ہے کہ وہ چین کے امن منصوبے کی تفصیلات کا جائزہ لے رہا ہے۔تاہم کریملن کو ابھی تک یوکرین میں پرامن حل کے لیے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے پیر کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”ہم اپنے چینی دوستوں کے منصوبے پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ یقیناً، تمام فریقوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تفصیلات کا بڑے انہماک سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک بہت طویل اور شدید عمل ہے۔‘‘

یہ منصوبہ دونوں فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ بتدریج ‘ڈی اسکیلیشن‘ پر اتفاق کریں۔ اس میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف انتباہ بھی شامل ہے، جس کا روس حال ہی میں اشارہ دے چُکا ہے۔

دریں اثنا، چینی وزارت خارجہ کی طرف سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ، اس نے ہمیشہ تنازعہ میں تمام فریقوں کے ساتھ رابطے کے عمل کو برقرار رکھا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ، جنہوں نے یوکرین پر حملے سے چند دن پہلے اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ ” لامحدود‘‘ اتحاد کا اعلان کیا تھا، جنگ کے آغاز کے بعد سے کئی بار ولادیمیر پوٹن سے بات چیت کر چکے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C