08/October/2026

ترکی کا یمن میں حوثیوں کے خلاف فوج بھیجنے سے انکار، سعودی عرب کو دفاعی تعاون کی یقین دہانی

👁️ 78 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ترکی کا یمن میں حوثیوں کے خلاف فوج بھیجنے سے انکار، سعودی عرب کو دفاعی تعاون کی یقین دہانی

ترکی کا یمن میں حوثیوں کے خلاف فوج بھیجنے سے انکار، سعودی عرب کو دفاعی تعاون کی یقین دہانی

انقرہ(ڈیلی اردو) ترکی نے واضح کیا ہے کہ وہ یمن میں حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کے لیے اپنی افواج کسی دوسرے ملک میں نہیں بھیجے گا، تاہم سعودی عرب کو میزائل اور ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے دفاعی تعاون فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے جمعرات کو کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ جارحانہ کارروائیوں کے لیے نہیں بلکہ رکن ممالک کے دفاع کے لیے ہے۔ ان کے بقول ترکی اپنی فوج کو کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملہ کرنے کے لیے نہیں بھیجے گا۔

فیدان نے کہا کہ سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کا تعین کرنے کے لیے ترک اور سعودی حکام کے درمیان تکنیکی اور عسکری مشاورت جاری ہے، جس میں بالخصوص فضائی دفاع کے شعبے میں ممکنہ تعاون کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ترکی کی جانب سے ممکنہ معاونت میں فضائی دفاع، الیکٹرانک جنگ اور تکنیکی مدد شامل ہو سکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے درمیان لڑائی میں نمایاں شدت آئی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں، ہوائی اڈوں، توانائی کے مراکز اور دیگر تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ سعودی حمایت یافتہ فورسز نے بحیرہ احمر کے اہم راستے باب المندب کے اطراف حوثیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ترکی پہلے ہی سعودی عرب کو بعض دفاعی شعبوں میں تکنیکی اور فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے حکام سعودی عرب کی مزید دفاعی ضروریات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ترکی کی پارلیمنٹ سے دفاعی معاہدے کی توثیق کا مرحلہ ابھی باقی ہے، جس کے بعد معاہدے کے تحت تعاون کے دائرہ کار میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے اگست میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کرنے اور اجتماعی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا اصول طے کیا گیا۔ رواں ہفتے ریاض میں تینوں ممالک کے حکام کے اجلاس میں معاہدے پر فوری عمل درآمد اور سعودی عرب کے دفاع کے لیے مطلوبہ فوجی صلاحیتوں اور وسائل کی فراہمی تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق موجودہ صورتحال میں ترکی کی جانب سے براہِ راست جنگی دستے بھیجنے کے بجائے دیگر دفاعی صلاحیتیں فراہم کیے جانے کا امکان زیادہ ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے بھی معاہدے کے تحت عملی تعاون کے حوالے سے تفصیلات واضح طور پر سامنے نہیں لائی گئیں۔

دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سعودی عرب میں حوثیوں کے حالیہ حملوں اور یمن میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ باب المندب کی صورتحال عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C