جنرل دوورنیکوف: ‘شام کا قصاب‘ اب یوکرین میں روسی فوجی کمانڈر
👁️ 29 بار دیکھا گیا
جنرل دوورنیکوف: ‘شام کا قصاب‘ اب یوکرین میں روسی فوجی کمانڈر
کیف (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) روسی فوج کے جنرل الیکسانڈر دوورنیکوف پر شام میں عام شہریوں پر اندھا دھند بمباری کا الزام لگایا جاتا اور اسی وجہ سے انہیں ‘شام کا قصاب‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کریملن نے یوکرین میں جاری جنگ کی کمان اب اسی روسی جنرل کو سونپی ہے۔
روس نے یوکرین میں اپنی فوجی کارروائیوں کی نگرانی ایک ایسے جنرل کی سپرد کی ہے، جسے ‘بُچر آف سیریا‘ یا ‘شام کا قصاب‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم عسکری امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ جنرل دوورنیکوف شام میں تعینات دیگر روسی فوجی افسران جیسے ہی ہیں اور ان میں کوئی منفرد بات نہیں۔
جنرل دوورنیکوف کون ہیں؟
جنرل الیکسانڈر دوورنیکوف ساٹھ برس سے زائد عمر کے ایسے عسکری کمانڈر ہیں، جو روسی فوج میں مختلف نوعیت کی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ جب روسی فوج نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کی مدد شروع کی، تو وہ شام میں تعینات کیے جانے والے پہلے سینیئر روسی کمانڈر تھے۔ دوورنیکوف شام میں ستمبر 2015ء سے جولائی 2016ء، یعنی تقریباﹰ دس ماہ تک تعینات رہے تھے۔
تب 2011ء میں اسد خاندان کے خلاف شروع ہونے والا عوامی احتجاج ایک خونریز خانہ جنگی میں تبدیل ہو چکا تھا۔ 2015ء کے موسم گرما میں اسد حکومت نے روس سے مدد طلب کی اور اسی سال ستمبر میں روس اس جنگ میں شامل ہو گیا۔
شہری علاقوں پر بمباری
اس کے بعد روسی جنگی طیاروں نے شام کے شہری علاقوں پر اندھا دھند بمباری کرنا شروع کی، خاص طور پر شمالی شام کے شہر حلب میں۔ اس بمباری نے مزاحمتی تحریک کی کمر توڑ دی اور حالات اسد حکومت کے حق میں ہو گئے۔
روس جنگی طیاروں نے مساجد، بازاروں، اسکولوں، ہسپتالوں حتیٰ کہ کھیتوں تک کو نشانہ بنایا۔ اسد حکومت کے مخالف جنگجوؤں کے پاس بہت کم ہی اینٹی ایئر کرافٹ میزائل تھے اور اسی وجہ سے وہ روسی فوج سے لڑ نہ سکے، حالانکہ شامی فوج کے خلاف انہیں کچھ کامیابیاں ملی تھیں۔
شام میں روسی فوجی کارروائیوں کو کامیابی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے جنرل دوورنیکوف کو ‘شام کے قصاب‘ کا نام دیا گیا تھا۔ انہیں 2016ء میں ‘روسی فیڈریشن کا ہیرو‘ نامی اعلیٰ ملکی اعزاز بھی دیا گیا تھا۔
عام جنرل
واشنگٹن میں’آئی ایس ڈبلیو‘ نامی ایک تھنک ٹینک میں مبصرین کی جانب سے ایک جائزہ پیش کیا گیا، جس کے مطابق شام میں جنرل دوورنیکوف کے طرز عمل یا عسکری قابلیت کی کوئی خاص تعریف نہیں کی جا سکتی، ”روسی دستوں نے شام میں مداخلت کے دوران شہریوں اور انتہائی اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔‘‘
اس جائزے میں مزید بتایا گیا کہ شام میں روسی دستوں کی کمان کے دوران جنرل دوورنیکوف کا شہری علاقوں کو ہدف بنانا کوئی خاص مہارت نہیں تھی اور اسے کوئی منفرد عسکری طریقہ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ شام اور یوکرین میں استعمال کیے جانے والے حربے منفرد نہیں ہیں اور مؤثر بھی ثابت نہیں ہو رہے۔‘‘
ایک منطقی تعیناتی
جنرل دوورنیکوف کو یوکرین میں جاری فوجی کارروائیوں کا نگران بنانا کوئی سنسنی خیز فیصلہ نہیں ہے۔ یہ بہت منطقی انتخاب ہے۔ 2016ء میں شام سے واپسی کے بعد سے وہ روس کے جنوبی علاقوں کے کمانڈر رہے ہیں، جن میں ڈونباس اور کریمیا بھی شامل ہیں۔ اطلاع ہے کہ ان علاقوں میں روس ایک نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ پچھلے مہینوں کے دوران یوکرین میں ان تمام محاذوں پر کافی پیش قدمی ہوئی ہے، جو اس روسی جنرل کی نگرانی میں تھے۔ جنرل دوورنیکوف یوکرین کے محصور شہر ماریوپول کے اردگرد جاری آپریشنز کے بھی نگران تھے۔ وہ صرف جنوبی یوکرین میں سب سے طویل عرصے سے فوجی خدمات انجام دینے والے جنرل ہی نہیں بلکہ اس وقت سب سے سینیئر کمانڈر بھی ہیں۔
کیا روسی جنرل یوکرین میں بھی کامیاب ہوں گے؟
آئی ایس ڈبلیو نامی تھنک ٹینک کے مبصرین کے مطابق یہ سمجھنا مشکل ہے کہ جنرل دوورنیکوف کا شام میں عسکری تجربہ یوکرین میں کچھ کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ شام میں خدمات انجام دینے والے پہلے روسی کمانڈر تھے اور انہوں نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آپریشنز کیے۔ لیکن یوکرین میں صورتحال مختلف ہے۔ یوکرین کے پاس اینٹی ایئر کرافٹ گنیں اور میزائل بھی ہیں۔ ان کے علاوہ یوکرین کے پاس جدید اسلحہ اور اپنی فضائیہ بھی ہے۔ لبنانی فوج کے ساتھ کام کرنے والے ایک ریٹائرڈ جنرل الیاس ہانا کے مطابق شام میں روسی فوج نے صرف فضائی کارروائیاں کی تھیں اور جنرل دوورنیکوف نے فضائی بمباری کی نگرانی کی تھی، ”روسی پیدل فوج کا شامی سرزمین پر کبھی کسی فوج سے آمنا سامنا نہیں ہوا تھا۔ مگر یہاں یوکرین میں زمین پر لڑائی ہو رہی ہے، دو ممالک کی افواج اور تربیت یافتہ دستوں کے درمیان، اور ساتھ ہی فضائی کارروائیاں بھی۔‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لبنان میں اسرائیلی حملے، بچے سمیت 7 افراد ہلاک، جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں
22/June/2026 👁️ 122 بار دیکھا گیا
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
22/June/2026 👁️ 170 بار دیکھا گیا
کریمیا پر یوکرین کا بڑا حملہ، 4 افراد ہلاک، ایندھن کی فروخت معطل
21/June/2026 👁️ 188 بار دیکھا گیا
یورینیم افزودگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی صدر پزشکیان
21/June/2026 👁️ 315 بار دیکھا گیا
کراچی میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، خودکش بمبار گرفتار، جیکٹ برآمد
21/June/2026 👁️ 126 بار دیکھا گیا
لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ
21/June/2026 👁️ 164 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8846 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4602 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2468 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2119 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C