جنگی جرائم: بشارالاسد کی حامی ملیشیا کا اہم رہنما جرمنی میں گرفتار
👁️ 84 بار دیکھا گیا
جنگی جرائم: بشارالاسد کی حامی ملیشیا کا اہم رہنما جرمنی میں گرفتار
برلن (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/ڈی پی اے) احمد ایچ پر الزام ہے کہ انہوں نے شام کی خانہ جنگی کے ابتدائی سالوں میں دمشق کے مضافات میں اسد نواز ملیشیا کی قیادت کی تھی۔ انہیں شمالی جرمنی کے شہر بریمن سے گرفتار کیا گیا ہے۔
جرمن پولیس نے شامی خانہ جنگی کے ابتدائی دور میں بشار الاسد کی حامی ملیشیا کی قیادت کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث رہنے کے شبے میں ایک شامی شخص کو گرفتار کیا ہے۔
بدھ کے روز جرمنی کے شمالی شہر بریمن سے گرفتاری کے ایک روز بعد پولیس نے بتایا کہ اس شخص کی شناخت احمد ایچ کے طور پر کی گئی ہے۔
ملزم پر کیا الزامات ہیں؟
استغاثہ کا کہنا ہے کہ مشتبہ ملزم سن 2012 سے سن 2015 تک دمشق کے نواحی علاقے تادمان میں شامی رہنما بشارالاسد کی وفادار ملیشیا کا رہنما تھا۔
انہوں نے مزید بتایا، ”ملیشیا نے متعدد چوکیاں قائم کر رکھی تھیں جہاں لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا جاتا تھا تاکہ ان سے یا ان کے خاندان کے افرا د سے جبراً رقم اینٹھی جا سکے، ان سے جبری مزدوری کرائی جا سکے یا ان پر تشدد کیا جا سکے۔”
احمد ایچ پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے ایک زیر حراست شخص کے منہ پر گھونسے مارے اور ملیشیا کے ساتھی ارکان کو پلاسٹک کے پائپوں سے اس شخص پر گھنٹوں تک “وحشیانہ تشدد” کرنے کا حکم دیا۔
ایک اور واقعے میں احمد ایچ اور اس ملیشیا کے دیگر اراکین نے مبینہ طور پر ایک چوکی پر ایک شہری کو بری طرح مارا پیٹا، اسے سر لے بل سڑک پر گھسیٹا اور پھر رسیوں سے باندھ کے ملیشیا اسے اپنے ساتھ لے گئے۔
استغاثہ نے دو مبینہ واقعات کی طرف بھی اشارہ کیا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مشتبہ شخص نے پچیس تیس افراد کے ایک گروپ کو گرفتار کیا اور انہیں ریت کے تھیلوں کو لے کر قریبی محاذ جنگ پر پورا دن گزارنے پر مجبور کیا۔ اس دوران سخت گرمی میں انہیں بھوکا پیا سا رکھا گیا اور مارا پیٹا بھی گیا۔
استغاثہ نے بتایا کہ ملیشیا نے ملٹری انٹیلیجنس ونگ کے ساتھ بھی کام کیا، جس نے علاقے میں کم از کم 47 افراد کو موت کی سزا دی۔
جرمن استغاثہ کا ‘عالمی دائرہ اختیار’ کے تحت کارروائی
احمد ایچ پر ممکنہ فرد جرم عائد ہونے تک جمعرات کو ایک جج نے ملزم کو پولیس کی تحویل میں دے دیا۔
گرچہ انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کا ارتکاب شام میں کیا گیا تھا اور اس میں کوئی جرمن شہری ملوث نہیں تھا لیکن جرمنی کے “عالمی دائرہ اختیار” کے اصول کے تحت استغاثہ اب بیرون ملک کیے گئے سنگین جرائم کے مقدمات کی بھی پیروی کر سکتا ہے۔ خواہ ان کا ارتکاب کسی نے بھی کیا ہو یا متاثرین کوئی بھی ہوں۔
اسی اصول کے تحت سن 2022 میں شام کے ایک سینیئر اہلکار کو انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے پہلی سزا سنائی گئی تھی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کراچی میں آپریشن، کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے 5 دہشت گرد گرفتار
17/June/2026 👁️ 97 بار دیکھا گیا
ایران میں حکومتی تبدیلی کی کبھی پروا نہیں کی، امریکی صدر ٹرمپ
17/June/2026 👁️ 124 بار دیکھا گیا
چارسدہ میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، ٹی ٹی پی کے 3 مطلوب دہشت گرد ہلاک
17/June/2026 👁️ 160 بار دیکھا گیا
ماسکو میں روسی آئل ریفائنری کو یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
17/June/2026 👁️ 120 بار دیکھا گیا
پنجاب: اٹک میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، خودکش جیکٹ برآمد
16/June/2026 👁️ 155 بار دیکھا گیا
اسرائیل نے لبنان پر حملے بند نہ کیے تو سخت جواب دیا جائے گا، ایران
16/June/2026 👁️ 165 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8830 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4563 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3274 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2452 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2094 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1899 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C