19/October/2026

حرمین شریفین کا تحفظ ناقابلِ سمجھوتہ، سعودی عرب کی دفاع کے لیے ہر ضروری مدد کریں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

👁️ 51 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حرمین شریفین کا تحفظ ناقابلِ سمجھوتہ، سعودی عرب کی دفاع کے لیے ہر ضروری مدد کریں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

حرمین شریفین کا تحفظ ناقابلِ سمجھوتہ، سعودی عرب کی دفاع کے لیے ہر ضروری مدد کریں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی (ڈیلی اردو ) پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا تحفظ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے درکار مدد فراہم کر رہا ہے اور آئندہ بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

عرب میڈیا ادارے انڈیپنڈنٹ عربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مشترکہ دفاعی اتحاد کو تینوں ممالک کے تاریخی تعلقات، باہمی اعتماد اور مشترکہ سلامتی کے اہداف کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس اتحاد کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف جارحانہ محاذ قائم کرنا نہیں بلکہ اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا، ممکنہ جارحیت کی روک تھام اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

احمد شریف چودھری نے کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ پر پاکستان کا مؤقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔ تاہم انہوں نے دفاعی تعاون کے تحت کیے جانے والے عملی اقدامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں اور اس معاملے میں فوجی رازداری کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے بتایا کہ مشترکہ دفاعی انتظام کے تحت ادارہ جاتی تعاون کو آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس میں سیکریٹریٹ اور تزویراتی، سیاسی و دفاعی کمیٹی شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس اتحاد کی بنیاد اقوام متحدہ کے منشور میں تسلیم شدہ حقِ دفاع پر ہے اور اس کا بنیادی مقصد رکن ممالک کی سلامتی کے لیے مشترکہ صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق دفاعی اتحاد عملی مرحلے میں داخل

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے اعلان کردہ اصول کے مطابق تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق 5 اکتوبر کو ریاض میں اتحاد کی تزویراتی، سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش سلامتی کے خطرات کا جائزہ لیا گیا اور مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے لیے ضروری فوجی صلاحیتوں اور وسائل کی تیز رفتار تعیناتی کے انتظامات آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے 12 اکتوبر کی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے معاہدہ پارلیمان میں توثیق کے لیے پیش کرنے کا عندیہ دیا۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتحاد کے عملی طریقۂ کار اور رکن ممالک کی ذمہ داریوں کو مزید واضح کرنے کا عمل جاری ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سفارتی کوششیں

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق ایران سمیت متعلقہ فریقوں سے رابطوں کا مقصد تحمل، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل بڑھتی ہوئی محاذ آرائی خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہے اور مسائل کا دیرپا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملوں سے متعلق خدشات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان واقعات پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سمیت عوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے، خصوصاً سعودی عرب اور مقدس مقامات کی سلامتی کے حوالے سے۔

رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی حالیہ رپورٹس میں بھی سعودی عرب کو درپیش حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی سلامتی کی کشیدگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس پس منظر میں سعودی عرب کے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون اور سفارتی رابطے اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

بحری راستوں کا تحفظ اور اتحاد میں توسیع کا امکان

انٹرویو میں آبنائے ہرمز اور باب المندب کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل کے لیے اہم ان گزرگاہوں کو محفوظ رکھنے کی غرض سے ممالک کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ ان کے مطابق مشترکہ بحری سلامتی کے اقدامات خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ مکہ دفاعی اتحاد مستقبل میں ان ممالک کے لیے بھی کھولا جا سکتا ہے جو اجتماعی دفاع، علاقائی امن اور استحکام کے اصولوں سے اتفاق کرتے ہوں۔ ان کے مطابق یہ انتظام پہلے سے موجود دوطرفہ دفاعی معاہدوں کی جگہ لینے کے بجائے ان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ مسلم ممالک کو باہمی محاذ آرائی بڑھانے کے بجائے اتحاد، سفارت کاری اور مشترکہ سلامتی پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق دفاعی تعاون کا مقصد امن کو مضبوط بنانا اور ممکنہ جارحیت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، جبکہ خطے میں پائیدار استحکام کے لیے سیاسی مذاکرات جاری رکھنا ناگزیر ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C