10/January/2026

حلب میں شامی فوج کا کرد فورسز پر دوبارہ حملہ

👁️ 195 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حلب میں شامی فوج کا کرد فورسز پر دوبارہ حملہ

حلب میں شامی فوج کا کرد فورسز پر دوبارہ حملہ

دمشق (ڈیلی اردو) شامی فوج نے حلب میں کرد فورسز پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔ یہ حملے کرد گروہوں کی جانب اس حکومتی مطالبے کو مسترد کرنے کے بعد کیے گئے جس میں ان مسلح گرہوں سے اپنے ٹھکانے چھوڑ دینے کا کہا گیا تھا۔ شامی حکومت ایک سال قبل اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مختلف مسلح گروہوں کو متحد کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

 

جمعے کے روز شام کے شہر حلب میں ایک بار پھراس وقت جھڑپیں ہوئیں، جب کرد گروہوں نے حکومت کے مطالبے پر اپنے ٹھکانے چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ 

 

شامی فورسز نے شیخ مقصود اور اشرفیہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا، جو 2011 میں شروع ہونے والی جنگ کے ابتدائی دنوں سے کرد فورسز کے زیرِ کنٹرول ہیں۔

 

اگرچہ کرد جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ وہ شہر چھوڑ چکے ہیں، تاہم کرد سکیورٹی فورسز اب بھی وہاں موجود ہیں۔

 

شامی وزارتِ دفاع نے جمعے کی صبح تک جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کرد فورسز سے شہر خالی کر کے دیگر کرد اکثریتی علاقوں میں منتقل ہونے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن کرد فورسز نے اسے ’’ہتھیار ڈالنے کی اپیل‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ اپنے محلوں کا دفاع کریں گی۔

 

چند گھنٹوں بعد وزارتِ دفاع نے کہا کہ انخلا کی مہلت ختم ہو چکی ہے اور فوج طاقت کے ذریعے علاقوں کا کنٹرول سنبھالے گی۔ وزارت کے مطابق کرد فورسز کے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے ’’اہلِ حلب‘‘ پر حملے کیے جا رہے تھے۔

 

کرد سکیورٹی فورسز نے کہا کہ بعض حملے ایک اسپتال پر بھی ہوئے اور اسے جنگی جرم قرار دیا، جبکہ وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ مذکورہ مقام اسلحہ ڈپو کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔ ہفتے کی صبح شامی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے شیخ مقصود کے علاقے میں تلاشی کارروائی مکمل کر لی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقہ فوج کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔

 

شامی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اس کے خلاف لڑنے والوں کے پاس اب واحد راستہ یہ ہے کہ وہ فوری طور پر خود کو اور اپنے ہتھیار قریبی فوجی چوکی کے حوالے کر دیں، جس کے بدلے ان کی جان اور ذاتی سلامتی کی ضمانت دی جائے گی۔

 

تاہم کرد قیادت میں قائم شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے شامی فوج کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’غلط اور گمراہ کن‘‘ قرار دیا۔

 

حلب ان کئی حساس محاذوں میں سے ایک ہے جن کا سامنا صدر احمد الشرع کی قیادت میں قائم اسد کے بعد کی حکومت کو ہے۔ حالیہ لڑائی کے نتیجے میں 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور کم از کم نو شہری مارے گئے ہیں۔

 

ایس ڈی ایف میں شامل مسلح گروہوں میں کرد فورسز سب سے بڑی قوت ہیں۔ یہ امریکی حمایت یافتہ اتحاد داعش کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کر چکا ہے۔ نئی شامی حکومت نے ایس ڈی ایف کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت 2025 کے اختتام تک ان فورسز کو وزارتِ دفاع میں ضم کیا جانا تھا، تاہم اس پر اب تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔

 

فرانس اور امریکہ اس معاملے میں ثالثی کی

 

کوششیں کر رہے ہیں۔ روئٹرز سے بات کرنے والے ایک سفارتکار کے مطابق کوششیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ کرد فورسز حلب چھوڑ دیں جبکہ شہر میں رہنے والے کرد شہریوں کے لیے تحفظات فراہم کیے جائیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C