07/July/2026

حماس نے 20 سال بعد غزہ کی حکومتی انتظامیہ تحلیل کر دی، امریکی منصوبے پر عملدرآمد شروع

👁️ 82 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حماس نے 20 سال بعد غزہ کی حکومتی انتظامیہ تحلیل کر دی، امریکی منصوبے پر عملدرآمد شروع

حماس نے 20 سال بعد غزہ کی حکومتی انتظامیہ تحلیل کر دی، امریکی منصوبے پر عملدرآمد شروع

واشنگٹن(ڈیلی اردو رپورٹ) حماس نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں اپنی ڈی فیکٹو حکومتی انتظامیہ باضابطہ طور پر تحلیل کر دی ہے۔ یہ فیصلہ امریکہ کی حمایت یافتہ جنگ کے بعد کے انتظامی منصوبے کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد غزہ میں ایک نئی شہری اور انتظامی ساخت قائم کرنا ہے۔

 

حماس تقریباً دو دہائیوں سے غزہ کی حکومتی انتظامیہ چلا رہی تھی۔ تنظیم نے 2006 کے فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد 2007 میں غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا اور تب سے علاقے کے انتظامی امور کی ذمہ دار رہی۔

 

حماس کے حکومتی اطلاعاتی دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حکومتی ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد فرا نے باضابطہ استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ کمیٹی کو بھی تحلیل کر دیا گیا ہے تاکہ انتظامی اختیارات غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی کو منتقل کیے جا سکیں۔

 

انہوں نے کہا کہ حماس نے یہ قدم غزہ کی انتظامی منتقلی کے عمل کو آسان بنانے اور جنگ کے بعد ایک نئے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق وزارتیں اور سرکاری ملازمین معمول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے، جبکہ حماس ان علاقوں میں سکیورٹی اور پولیسنگ کی نگرانی برقرار رکھے گی جو اب بھی اس کے کنٹرول میں ہیں۔

 

امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت غزہ کے انتظامی امور "نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ" کے سپرد کیے جائیں گے، جو فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل 15 رکنی کمیٹی ہے اور اس کا قیام قاہرہ میں عمل میں آیا تھا۔ کمیٹی کے سربراہ علی شعث کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے مالی وسائل اور مناسب انتظامی ماحول کی فراہمی ضروری ہے۔

 

حماس کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیل کو مزید فوجی کارروائیوں کے لیے کسی بھی ممکنہ جواز سے محروم کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ تنظیم نے ایک مرتبہ پھر الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی متعدد شقوں پر عمل نہیں کیا۔

 

دوسری جانب امریکہ کی حمایت سے قائم "بورڈ آف پیس" نے حماس کے اعلان کا خیر مقدم کرنے کے بجائے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حتمی جائزہ اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کی بنیاد پر کیا جائے گا تاکہ غزہ کے عوام کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

 

ادھر غزہ میں جنگ بندی کے باوجود تشدد کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رکا۔ مقامی طبی حکام کے مطابق پیر کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک ہوئے۔

 

غزہ سٹی کے تل الہوا علاقے میں ایک اپارٹمنٹ پر فضائی حملے میں ایک میاں بیوی جان سے گئے، جبکہ جنوبی شہر خان یونس میں دو الگ حملوں میں مزید تین افراد ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق ایک حملہ بے گھر افراد کے خیمے اور دوسرا ایک گاڑی کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔

 

اسرائیلی فوج نے ان مخصوص حملوں پر فوری تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اس کی کارروائیاں ممکنہ عسکری خطرات کو روکنے کے لیے جاری ہیں۔

 

اس وقت اسرائیلی فوج غزہ کے 60 فیصد سے زائد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ علاقے حفاظتی بفر زون کے طور پر برقرار رکھے جائیں گے اور اسرائیل غزہ سے انخلا کا ارادہ نہیں رکھتا۔

 

طویل جنگ کے باعث غزہ کی تقریباً 20 لاکھ آبادی شدید انسانی بحران کا شکار ہے، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C