18/October/2026

حوثیوں کی سعودی عرب میں تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں سے دور رہنے کی وارننگ، حملوں میں شدت کا خدشہ

👁️ 54 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حوثیوں کی سعودی عرب میں تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں سے دور رہنے کی وارننگ، حملوں میں شدت کا خدشہ

حوثیوں کی سعودی عرب میں تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں سے دور رہنے کی وارننگ، حملوں میں شدت کا خدشہ

صنعا(ڈیلی اردو) یمن کے ایران نواز حوثی تحریک نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کے قریب موجود ملازمین اور شہریوں کو انخلا کی نئی ہدایت جاری کرتے ہوئے فضائی کمپنیوں کو بھی سعودی ہوائی اڈوں اور فضائی حدود سے دور رہنے کا انتباہ دیا ہے۔ حوثیوں نے مکہ اور مدینہ کے اطراف کے علاقوں کو اس تنبیہ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

حوثی ذرائع کے مطابق یہ انتباہ مشرقی سعودی شہر ظہران میں سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی ایک عمارت پر حالیہ حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ تحریک نے آرامکو کے سرمایہ کاروں اور حصص یافتگان کو بھی ممکنہ مالی نقصان سے بچنے کے لیے اپنے حصص فروخت کرنے یا واپس لینے پر غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملوں کی دھمکی دی تھی۔ یہ بیان ظہران میں آرامکو کے انتظامی کمپلیکس کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آیا۔ سعودی وزارت توانائی نے اس واقعے میں محدود آگ لگنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ دیگر ذرائع نے عمارت کو پہنچنے والے نقصان کی شدت زیادہ بتائی تھی۔

سعودی دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی حالیہ دنوں میں حملوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔ رائٹرز اور الجزیرہ کے مطابق 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں سعودی حکام نے کم از کم 12 افراد کی ہلاکت اور 300 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔ اس کے بعد بھی ہوائی اڈے کے قریب حملوں اور میزائلوں کو روکنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے فضائی سفر اور شہریوں کی سلامتی کے خدشات بڑھ گئے۔

دوسری جانب سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن میں حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ حوثی ان کارروائیوں کو سعودی حملوں کے جواب میں اپنی کارروائیوں کا جواز قرار دیتے ہیں، جبکہ سعودی قیادت کی حمایت یافتہ فورسز حوثیوں کے حملوں کو اپنی سلامتی اور اہم تنصیبات کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے۔ تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں سے نہ صرف شہریوں اور کارکنوں کی سلامتی بلکہ خطے کی توانائی رسد اور فضائی آمدورفت کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ تاہم حوثیوں کی تازہ وارننگ کے بعد مزید حملوں کی نوعیت اور ان کے ممکنہ اثرات کے بارے میں صورت حال غیر یقینی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C