24/May/2025

داعش رہنما کی بیوہ کے سنسنی خیز انکشافات: ’’اگر میں ایزدی خواتین کی جگہ ہوتی تو ایک لمحہ بھی نہ سہہ پاتی‘‘

👁️ 102 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
داعش رہنما کی بیوہ کے سنسنی خیز انکشافات: ’’اگر میں ایزدی خواتین کی جگہ ہوتی تو ایک لمحہ بھی نہ سہہ پاتی‘‘

داعش رہنما کی بیوہ کے سنسنی خیز انکشافات: ’’اگر میں ایزدی خواتین کی جگہ ہوتی تو ایک لمحہ بھی نہ سہہ پاتی‘‘

بغداد (ڈیلی اردو )شدت پسند تنظیم داعش کے عراق و شام میں دوسرے مرکزی رہنما عبداللہ مکی الرفیعی المعروف “ابو خدیجہ” کی بیوہ، حواء الشیشانیہ المعروف “ام خدیجہ”، نے اپنی حیران کن روداد بیان کرتے ہوئے تنظیم میں شمولیت، شدت پسندی کی تعلیم، ایزدی خواتین کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک اور تنظیم کے اندرونی نظام کے بارے میں انکشافات کیے ہیں۔

عرب نیوز چینل “العربیہ / الحدث” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حواء الشیشانیہ نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کی تربیت اور اثر و رسوخ کے باعث بتدریج داعش کی طرف مائل ہوئیں۔ “مجھے قرآن پڑھنا نہیں آتا تھا، ہمیں روسی خواتین معلمات نے مذہبی تعلیم دینا شروع کی۔ جو خواتین ان دروس میں غیر حاضر رہتیں، انہیں سزائیں دی جاتیں۔”

انہوں نے کہا کہ تنظیم میں شمولیت کے ابتدائی دنوں میں مذہبی تعلیمات کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں تھا، لیکن شوہر کی وفات کے بعد انہیں شام کے علاقے منبج کی ایک “مضافہ” (خواتین کے لیے مخصوص قیام گاہ) میں منتقل کر دیا گیا، جہاں عقیدہ اور فقہ کے اسباق لازمی قرار دیے گئے اور ان سے غیر حاضری پر سخت سزائیں ملتیں۔

حواء نے بتایا کہ داعش کی خواتین کمانڈر کتیبہ نسیبہ، خواتین کو ان کی نیت کے مطابق مختلف گروہوں میں تقسیم کرتی تھیں، جبکہ زیادہ تر خودکش حملوں کی خواہش رکھنے والی خواتین کا تعلق یورپی ممالک سے تھا، جبکہ چیچنیہ اور روس سے تعلق رکھنے والی خواتین کی تعداد کم تھی۔

اپنی زندگی کے ایک اور دردناک لمحے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: “میں نے ایزدی خواتین پر ہونے والے ظلم کے بارے میں دیگر خواتین سے سنا، لیکن کبھی کسی ایزدی سے ملاقات نہ ہوئی، یہاں تک کہ 2019 میں پہلی بار ایک ایزدی خاتون کو دیکھا۔ اس لمحے میں نے خود کو ان کی جگہ تصور کیا اور سوچا کہ اگر میں ان کی جگہ ہوتی، تو ایک لمحہ بھی برداشت نہ کر پاتی۔”

اپنے شوہر ابو خدیجہ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ ہر وقت دو خودکش جیکٹیں پہنے رکھتے تھے اور امریکی افواج کے کسی بھی وقت حملے کی توقع رکھتے تھے۔ “وہ رات کو سو نہیں سکتے تھے، ہمیشہ بے چین رہتے اور مجھے بھی خودکش جیکٹ پہننے پر مجبور کرتے تاکہ اگر گرفتار ہو جاؤں تو زندہ نہ رہوں۔”

انہوں نے بتایا کہ وہ دو مرتبہ فضائی حملے سے بچیں اور کئی مرتبہ عراقی صحراؤں میں محاصرے سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔

شوہر کی ہلاکت کے بارے میں انہوں نے کہا: “مجھے اگلے دن بتایا گیا کہ وہ مارا گیا ہے، کوئی لاش نہیں دکھائی گئی، بس اطلاع دی گئی کہ وہ جمعے کو ہلاک ہو چکا ہے۔”

واضح رہے کہ مارچ 2025 میں عراق نے ابو خدیجہ کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، جسے امریکہ نے 2023 میں دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، اس کی ہلاکت ایک “درست فضائی کارروائی” میں عراقی انٹیلیجنس کے تعاون سے صوبہ الانبار میں عمل میں لائی گئی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C