روس یوکرین تنازعے کا عالمی جنگ میں تبدیل ہونے کا کتنا امکان ہے؟
👁️ 66 بار دیکھا گیا
روس یوکرین تنازعے کا عالمی جنگ میں تبدیل ہونے کا کتنا امکان ہے؟
نیو یارک (ڈیلی اردو/بی بی سی) آئیں سیدھی بات کریں: کیا ہم تیسری عالمی جنگ کی ابتدا دیکھ رہے ہیں۔
کیونکہ اکثر لوگ یہی سوال کر رہے ہیں۔ روس کی یوکرین میں حالیہ کارروائیاں، روسی رہنماؤں کے بیانات اور مغربی رہنماؤں کے جوابی بیانات اور روس پر پابندیوں کے اعلانات سے تو یہی تاثر ملتا ہے۔
لیکن اس کا جواب نفی میں ہے۔ یوکرین اور روس کے درمیان حالات خواہ کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں لیکن یہ براہ راست نیٹو اور روس کا جھگڑا نہیں ہے۔
درحقیقت جب امریکہ اور برطانیہ نے روس کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کو یوکرین کی سرحد پر لانے کا عمل دیکھا تو اس پر مایوسی ظاہر کی اور دونوں ملکوں نے یوکرین میں موجود اپنے فوجی تربیت کاروں اور مشیروں کو فوراً وہاں سے نکال لیا۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے رواں ماہ کے ابتد میں کہا تھا کہ ’عالمی جنگ تب ہو گی جب امریکی اور روسی فوجی ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے ہوں گے۔‘
صدر بائیڈن نے واضح طور پر کہا تھا کہ یوکرین میں صورتحال جیسی بھی ہو وہ امریکی فوجیوں کو یوکرین کی سرزمین پر تعینات نہیں کریں گے۔
ایسی صورت میں آپ کو کتنا پریشان ہونا چاہیے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کون ہیں، کہاں ہیں اور روس کا اگلا قدم کیا ہو گا؟
اگر آپ یوکرینی فوجی ہیں اور ملک کی مشرقی سرحد پر تعینات ہیں تو آپ یقیناً ایک خطرناک صورتحال سے دوچار ہیں۔ اسی طرح لاکھوں یوکرینی باشندوں کو بھی پریشانی لاحق ہے کہ یہ بحران ان کی زندگیوں کو کیسے متاثر کر سکتا ہے۔
روس یوکرین میں کہاں تک اپنی افواج کو بھیجنا چاہتا ہے، اس کا علم تو صدر پوتن اور ان کے قریبی ساتھیوں کو ہی ہو گا۔ لیکن نیٹو اور دوسرے مغربی ممالک کے لیے سرخ لکیر وہ ہو گی جب نیٹو ممالک کو روس سے خطرہ محسوس ہو گا۔
نیٹو معاہدے کے آرٹیکل پانچ کے تحت اگر کسی رکن ریاست پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو نیٹو کے تمام ممالک کو اس کے دفاع کے لیے آنا ہو گا۔
اگرچہ یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ نیٹو کا حصہ بننا چاہتا ہے لیکن وہ ابھی تک نیٹو اتحاد کا حصہ نہیں ہے اور صدر پوتن یوکرین کی نیٹو اتحاد میں شمولیت کے سخت مخالف ہیں۔
البتہ چار ایسی ریاستیں نیٹو اتحاد میں شامل ہو چکی ہیں جو ماضی میں سوویت یونین کے وقت ماسکو کے دائرہ اثر میں تھیں۔ ان میں پولینڈ، ایسٹونیا، لٹویا اور لیتھونیا شامل ہیں۔
ماضی میں ماسکو کے دائرہ اثر میں رہنے والے ممالک کو خدشہ ہے کہ روس یوکرین تک محدود نہیں رہے گا اور وہ ان ممالک میں بسنے والے روسی نسل کے باشندوں کی مدد کے بہانے ان پر بھی حملہ آور ہو سکتا ہے۔
اسی وجہ سے نیٹو نے حالیہ دنوں میں بالٹک ریاستوں میں اضافی فوجی تعینات کیے ہیں۔
جب تک روس اور نیٹو اتحاد کا براہ راست ٹکراؤ نہیں ہوتا تب تک پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، خواہ یوکرین میں حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، عالمی جنگ کا کوئی خطرہ نہیں۔
لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ روس اور امریکہ کے پاس آٹھ ہزار قابلِ استعمال جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے۔ لہٰذا خطرات بہت زیادہ ہیں۔
سرد جنگ کے زمانے میں استعمال ہونے والا لفظ ‘میڈ’ (Mutually Assured Destruction) یعنی جوہری ہتھیار کو پہلے استعمال کرنے والا اور جس پر جوہری ہتھیار استعمال ہوا ہو، دونوں کی مکمل تباہی یقینی ہے، کا اصول آج بھی لاگو ہوتا ہے۔
برطانوی فوج کے سینیئر ذرائع کے مطابق صدر پوتن نیٹو پر حملہ نہیں کریں گے اور یہ کہ وہ صرف یوکرین کو بیلاروس کی طرح ایک اطاعت گزار ریاست بنانا چاہتے ہیں۔
لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ صدر پوتن کیا سوچ رہے ہیں۔
عام طور پر صدر پوتن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ٹھنڈے دل و دماغ والے شطرنج اور جوڈو کے کھلاڑی ہیں لیکن سوموار کے روز کی تقریر سے وہ ایک شاطر منصوبہ ساز سے زیادہ ایک بپھرے ہوئے ڈکٹیٹر محسوس ہوئے ہیں۔
صدر پوتن نے نیٹو کو ایک ’برائی‘ قرار دیتے ہوئے دراصل یوکرین کو بتایا ہے کہ اس کے پاس روس سے علیحدہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے وجود کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ سوچ پریشان کُن ہے۔
برطانیہ وہ واحد ملک نہیں ہے جو روس کو سزا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ اور جرمنی اس سے ایک قدم آگے نکل گئے ہیں۔
جرمنی نے روس سے آنے والی نارڈ سٹریم 2 گیس پائپ لائن منصوبے کی منظوری کے عمل کو التوا میں ڈال دیا ہے۔ لیکن برطانیہ روس پر پابندیاں لگانے پر زور دینے میں پیش پیش ہے۔
روس بھی کسی نہ کسی انداز میں یقیناً جواب دے گا۔ روس میں مغربی ممالک کے کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں لیکن اگر صدر پوتن فیصلہ کریں تو روس اس سے بہت آگے جا سکتا ہے۔
نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر ’انتقامی‘ سائبر حملوں کے خطرے سے خبردار کر چکا ہے۔
یہ حملے جن کا کسی کو مورد الزام ٹھہرانا مشکل ہوتا ہے، ان میں بینکوں، کاروبار، افراد اور اہم انفراسٹرکیچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے برطانیہ اور روس کے تعلقات برسوں سے خراب چلے آ رہے ہیں جس کی وجوہات میں برطانوی سرزمین پر روس سے منحرف ہونے والے روسی شہریوں کو زہر دینا شامل ہے۔ اب روس اور برطانیہ میں اعتماد نہ ہونے کے برابر ہے۔
اور اس پس منظر میں کھلے عام ایسے الزامات کہ یوکرین کے بحران کا ذمہ دار کون ہے، خطرناک عمل ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لبنان میں اسرائیلی حملے، بچے سمیت 7 افراد ہلاک، جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں
22/June/2026 👁️ 106 بار دیکھا گیا
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
22/June/2026 👁️ 122 بار دیکھا گیا
کریمیا پر یوکرین کا بڑا حملہ، 4 افراد ہلاک، ایندھن کی فروخت معطل
21/June/2026 👁️ 153 بار دیکھا گیا
یورینیم افزودگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی صدر پزشکیان
21/June/2026 👁️ 206 بار دیکھا گیا
کراچی میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، خودکش بمبار گرفتار، جیکٹ برآمد
21/June/2026 👁️ 118 بار دیکھا گیا
لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ
21/June/2026 👁️ 127 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8846 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4602 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2467 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2119 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C