01/February/2026

سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ دو طرفہ ہی رہے گا، ترکی شامل نہیں

👁️ 168 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ دو طرفہ ہی رہے گا، ترکی شامل نہیں

سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ دو طرفہ ہی رہے گا، ترکی شامل نہیں

ریاض (ڈیلی اردو/ اے ایف پی) ترکی سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مجوزہ باہمی دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہوگا۔ اے ایف پی نے سعودی فوج کے ذرائع کے حوالے سے ان قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ معاہدہ صرف دو طرفہ نوعیت کا ہے۔

 

اس سے قبل یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے تناظر میںسعودی عرب، پاکستان اور ترکی ایک مضبوط عسکری اتحاد بنانے جا رہے ہیں۔ یہ قیاس آرائیاں اس پس منظر میں تھیں کہ گزشتہ موسم گرما میں اسرائیل نے دوحہ میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے عہدیداروں کو نشانہ بنایا تھا۔

 

سعودی ذریعے کے مطابق، ’’یہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ دفاعی معاہدہ ہے اور ایسا ہی رہے گا۔‘‘

 

خلیجی سفارتی ذریعے نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کے ساتھ الگ طرز کا تعاون موجود ہے لیکن پاکستان کے ساتھ معاہدہ صرف دو ممالک تک محدود رہے گا۔

 

گزشتہ سال ہونے والے اس پاک سعودی دفاعی معاہدے خاص طور پر اس کے ممکنہ جوہری پہلو کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے کیونکہ پاکستان ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

یہ معاہدہ اس کے چند ماہ بعد سامنے آیا تھا، جب پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ شدید جھڑپوں میں 70 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔ دونوں ایٹمی قوتیں ایک دوسرے پر عدم استحکام پھیلانے کے لیے عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کا الزام لگاتی رہی ہیں۔

 

سعودی عرب کو اس تنازعے میں کشیدگی کم کرانے میں اہم کردار ادا کرنے والا ملک سمجھا جاتا ہے، جبکہ وہ بھارت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھتا ہے۔ بھارتی معیشت بڑی حد تک تیل کی درآمدات پر منحصر ہے اور سعودی عرب اس کا تیسرا بڑا فراہم کنندہ ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C