14/April/2020

صوابی میں شہید مشال خان کی تیسری برسی منائی گئی

👁️ 29 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
صوابی میں شہید مشال خان کی تیسری برسی منائی گئی

صوابی میں شہید مشال خان کی تیسری برسی منائی گئی

صوابی (ڈیلی اردو) جامعہ عبدالولی خان مردان کی شعبہ صحافت و ابلاٖغ عامہ کے مشال خان کو قتل ہوئے 3 سال بیت گئے، مشال خان کی تیسری برسی گزشتہ روز منائی گئی۔ شعبہ صحافت و ابلاغ عامہ کے طالبعلم مشال خان کو توہین مذہب کے جھوٹے الزام میں ساتھی طلبہ اور یونیورسٹی ملازمین نے بیدردی سے تشدد کرنے کے بعد سرعام گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔

مشال خان کو 13 اپریل 2017 میں قتل کیا گیا جس کے بعد اس کیس میں 61 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔ مشال خان قتل کیس میں 57 ملزمان کا فیصلہ ہری پور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 7 فروری 2018 کو سنایا تھا۔ ہری پور اے ٹی سی نے 26 ملزمان کو بری کیا تھا جبکہ مرکزی ملزم عمران کو سزائے موت، 5 ملزمان کو 25، 25 سال قید اور 25 ملزمان کو 4، 4 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

کیس میں روپوش ملزمان صابر، اظہار، اسد اور عارف کی گرفتاری بعد میں عمل میں لائی گئی تھی۔ جن کا فیصلہ پشاور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 21 مارچ 2019 کو سنایا تھا، جہاں 2 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ 2 ملزمان کیخلاف شواہد نہ ہونے پر بری کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 1994 میں پیدا ہونے والے مشال خان عبد الولی خان یونیورسٹی مردان کے طالبعلم تھے، جنہیں 13 اپریل 2017 میں جامعہ کی حدود میں مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا۔ ان پر مبینہ طور پر فیس بک پر مذہب مخالف مواد نشر کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس نے اس کیس کی تحقیقات کے دوران کہا تھا کہ ہمیں توہین مذہب کے حوالے سے مشال کے خلاف سے کوئی ثبوت نہیں ملے۔

مشال کے ایک دوست کا کہنا تھا کہ ان پر حملے کی وجہ جامعہ کی انتظامیہ کے خلاف تنقید تھی۔

یاد رہے کی جب مشال خان شہید کا قتل ہوا تھا تو ان کی ماں نے کہا تھا کہ میرے بیٹے کی لاش مجھے اس حالت میں ملی کہ میرے بچے کے جسم کا کوئی حصہ زخموں کے بغیر نہیں تھا کہ جہاں میں بوسہ دے سکتی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مشال خان کے یوم شہادت پر ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ امید ہے کہ ہم انسانیت اور انسانی زندگی کی قدروقیمت کے شعور کے ساتھ کرونا وائرس کی وبائی آفت سے باہر نکلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں مشال خان کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ مشال خان کی زندگی کا اس کے اطراف کے لوگوں نے بہیمانہ طریقے سے خاتمہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشال خان کا قتل ہمارے مجموعی شعور پر ایک بدنما داغ ہے۔

واضح رہے کہ مشال خان کے قتل کا سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس وقت کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا تھا اور ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات کی سماعت انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں کرنے کی ہدایت کی تھی۔

مقدمے میں مجموعی طور پر 61 ملزمان نامزد کیے گئے تھے جن میں سے ایک کو سزائے موت، سات کو عمر قید اور 25 کو چار، چار سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ اٹھائیس ملزمان کو عدالت نے بری کردیا تھا۔

سزائیں پانے والے ملزمان نے سزا میں تحفیف جب کہ مشال خان کے والد کے وکلا نے ملزمان کی سزاؤں میں اضافے اور بری اور رہائی پانے والے ملزمان کی دوبارہ گرفتاری کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی ہوئی ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C