طالبان کے مظالم کے شکار افغانوں کیلئے جرمنی کا نیا پروگرام
👁️ 222 بار دیکھا گیا
طالبان کے مظالم کے شکار افغانوں کیلئے جرمنی کا نیا پروگرام
برلن (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) جرمنی نے طالبان کے ظلم و ستم کے شکار افغان شہریوں کی نقل مکانی کے لیے ایک نیا پروگرام متعارف کرایا ہے۔ افغانستان میں سول سوسائٹی کے ارکان اور اقلیتوں کو سب سے زیادہ خطرات سے دوچار سمجھا جاتا ہے۔
جرمن وزارت خارجہ اور داخلہ نے طالبان کے ظلم و ستم اور تعاقب کے خطرات سے دوچار افغان شہریوں کے لیے ایک نیا پروگرام متعارف کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت متاثرہ افراد کو جرمنی آنے کی اجازت ہو گی۔
گزشتہ سال اگست میں افغانستان سے جرمن فوج کے انخلاء کے بعد، افغانستان میں دو دہائیوں کی موجودگی کے دوران جرمن افواج کے ساتھ کام کرنے والے ہزاروں افغان شہریوں کو جرمنی آنے کی اجازت دی گئی ہے۔
برلن کے اس نئے پروگرام سے افغانستان میں رہنے والی خواتین اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن، سیاست و انصاف اور دیگر شعبوں سے وابستہ ایسے افراد جنہیں ان کے مذہب، جنس یا جنسی رجحان کی وجہ سے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کو بھی افغانستان سے نکالنے اور انہیں موقع فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا کہ یہ پروگرام خاص طور پر ان خواتین اور لڑکیوں کے لیے ہے، جن کے نظریات اور اُمیدوں کو گزشتہ موسم گرما سے کچلنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور ان کے حقوق پر قدغن لگائی گئی اور ان کی اپنے دفاع کی کوششوں کو پرتشدد طریقے سے دبایا گیا۔
سول سوسائٹی کا کلیدی کردار
اپنا ملک چھوڑنے کی اجازت پانے والے 38 ہزار افغان باشندوں میں سے تقریباً 26 ہزار پہلے ہی جرمنی آ چکے ہیں۔ لیکن ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے، جنہوں نے افغانستان میں وفاقی جرمن فوج اور دیگر جرمن تنظیموں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کام کیا تھا۔
نئے پروگرام کے تحت جرمنی آنے والوں میں صرف افغانستان میں مقیم افغان شہری شامل ہوں گے اور اس کا مقصد سول سوسائٹی بنانے والے گروہوں کے ایک بڑے حصے کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
جرمن وزیر خارجہ بیئرباک نے کہا، ”افغانستان میں بہت سے لوگ ظلم و ستم اور تشدد کے خوف کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ لوگ جو، ہماری طرح کی سوچ رکھتے تھے، زندہ رہے اور افغانستان کے بہتر مستقبل کے لیے لڑے۔ جرمن سول سوسائٹی بھی اس پروگرام میں اپنا کردار ادا کرے گی، جس کے لیے مرکزی کوآرڈینیشن اور فنڈ وزارت داخلہ کی طرف سے فراہم کیا جائے گا۔
جرمن وزیر داخلہ نینسی فیزر نے کہا، ”ہم سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ مل کر پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے، تعاون کے نئے طریقے اور ذرائع استعمال کریں گے، جو پہلے موجود نہیں تھے۔‘‘
جرمنی افغانستان میں پروگرام کو کس طرح منظم کرے گا؟
جرمنی کی افغانستان میں اب کوئی سفارتی موجودگی نہیں ہے۔ اس وجہ سے جرمنی آنے کے خواہشمند جرمن ویزہ کے درخواست دہندگان کی جانچ پڑتال کرنا اور اس امر کا اندازہ لگانا کہ آیا درخواست دہندہ ویزے کے حصول کے لیے وضع کردہ معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں، بہت مشکل ہے۔
جرمنی کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کرسٹوفر برگر نے کہا، ”یو این ریفیوجی ایجنسی اور انٹر نیشنل آرگنائزیشن فور مائیگریشن آئی او ایم، جن کے ساتھ ہم ماضی میں دیگر ممالک میں کام کر چُکے ہیں، وہ موجود نہیں ہیں۔‘‘
جرمن حکام اب ان تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کریں گے جو افغانستان میں موجود ہیں اور یہ بتانے کے قابل ہیں کہ نقل مکانی کر کے جرمنی آنے والوں کے لیے تیار کیے گئے نئے پروگرام کے معیار پر کون پورا اترتا ہے۔ اس بارے میں کرسٹوفر برگر نے میڈیا کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا، ”ہم ان اداروں اور تنظیموں پر انحصار کرتے ہیں، جو صورت حال کا اندازہ لگانے کے قابل ہیں، جو ایسی سفارشات دے سکتے ہیں جن سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کوئی کس حد تک اس معیار پر پورا اترتے ہیں‘‘۔
پروگرام کی نوعیت
یہ پروگرام ایک نیا تصور ہے، جو اُس سپورٹ کو جاری رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جو جرمنی پہلے ہی ظلم و ستم سے فرار اختیار کرنے والے افغان باشندوں کودے رہا تھا۔ لیکن اسے ایک عبوری فریم ورک کے تحت اُس مقامی امدادی عملے تک محدود کر دیا گیا تھا، جس کے اراکین کو افغانستان میں اقتدار کے دوبارہ طالبان کے ہاتھوں میں آنے کے بعد سے جرمنی لانے کے لیے بنایا گیا تھا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ہنگو میں آئی ای ڈی دھماکہ، معروف قبائلی رہنما حاجی عزت گل ہلاک
22/July/2026 👁️ 220 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں دہشت گردوں نے سرکاری سکول بارودی مواد سے تباہ کردیا
22/July/2026 👁️ 272 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملے
22/July/2026 👁️ 178 بار دیکھا گیا
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں
22/July/2026 👁️ 155 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں جھڑپوں کے دوران مسجد اور مدرسہ تباہ، تحقیقات کا مطالبہ
22/July/2026 👁️ 263 بار دیکھا گیا
حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا
22/July/2026 👁️ 320 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8970 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4830 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3659 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3580 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2570 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2324 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C