غزہ میں مواصلاتی نظام بحال، امدادی سامان کا ایک اور قافلہ بھی پہنچ گیا
👁️ 23 بار دیکھا گیا
غزہ میں مواصلاتی نظام بحال، امدادی سامان کا ایک اور قافلہ بھی پہنچ گیا
غزہ + تل ابیب (ڈیلی اردو/اے پی/وی او اے) اسرائیل اور حماس میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد 24 دن میں لگ بھگ تین درجن ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان کا سب سے بڑا قافلہ غزہ میں داخل ہوا ہے۔
خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق رضا کاروں کا کہنا ہے کہ یہ امدادی سامان بھی لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
ایک دن قبل ہزاروں افراد امدادی سامان کے گوداموں میں داخل ہوئے تھے اور آٹا اور دیگر ضروریات کی چیزیں لے گئے تھے۔
غزہ اور مصر کے درمیان قائم رفح کراسنگ پر ایک ترجمان نے بتایا کہ اتوار کو امدادی سامان سے لدے 33 ٹرک غزہ میں داخل ہوئے تھے۔
دوسری جانب غزہ پر اسرائیل کی فورسز کی بمباری اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ غزہ کے محکمۂ صحت کے حکام کا دعویٰ ہے کہ تین ہفتوں سے جاری حملوں میں آٹھ ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔
اسرائیل کی بمباری سے غزہ میں جمعے کو معطل ہونے والا مواصلات کا نظام اتوار کو بحال کر دیا گیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ جمعے کو اسرائیل نے غزہ پر شدید ترین بمباری کی تھی۔
امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ کے مطابق ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرائع منقطع ہونے کی وجہ سے غزہ کے شہریوں کا دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ میں امدادی کارکنوں کا آپس میں رابطہ کرنا بھی ناممکن ہو گیا تھا۔
خیال رہے کہ غزہ کی آبادی لگ بھگ 23 لاکھ ہے جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے۔ اسرائیلی فورسز نے سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر اچانک زمین، فضا اور بحری راستوں سے حملے کے بعد غزہ کی ناکہ بندی کر دی تھی۔ حماس کے حملے میں 1400 کے قریب اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے جب کہ حماس نے 230 کے قریب اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنا لیا تھا جو اب بھی اس کی تحویل میں ہیں۔
اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ یہاں بمباری بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب اس کے ٹینک غزہ کے بعض سرحدی علاقوں میں داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
‘اے پی’ کے مطابق اسرائیل کی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں لگ بھگ 450 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ترجمان کے مطابق اسرائیلی فوج کے حملوں میں حماس کے کمانڈ سینٹر کو ہدف بنایا گیا جب کہ اس کے اینٹی ٹینک میزائل داغنے کے مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے حماس کے درجنوں جنگجوؤں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیل نے فلسطینیوں کو غزہ کے شمالی علاقوں سے جنوب کی جانب انخلا کی ہدایت کی ہے۔ البتہ اب بھی ہزاروں افراد شمالی غزہ میں مقیم ہیں۔
دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں کی شمالی غزہ میں اسرائیلی فورسز سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان جھڑپوں میں اینٹی ٹینک میزائلوں اور چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کی عسکری تنظیموں کی جانب سے اسرائیل کے کئی علاقوں پر میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ ان میزائل حملوں میں اسرائیل کے معاشی مرکز اور اہم ترین شہر تل ابیب کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
‘اے پی’ کے مطابق اتوار کو اسرائیل نے غزہ میں ایک اسپتال کے قریب فضائی حملہ کیا ہے۔
غزہ میں امدادی کاموں میں مصروف ہلالِ احمر کے مطابق اسرائیل کے حملے میں غزہ کے ایک اور اسپتال کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔
ہلالِ احمر کے حکام کا کہنا تھا کہ انہیں اسرائیل کی جانب سے اتوار کو دو ٹیلی فون کالز موصول ہوئی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ اسپتال کو فوری طور پر خالی کر دیا جائے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اتوار کو اسرائیل کی فورسز نے صرف 50 میٹر دور فضائی حملہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ کے القدس اسپتال میں لگ بھگ 14 ہزار افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے ایک ہفتہ قبل اس اسپتال کو خالی کرنے کا انتباہ جاری کیا تھا البتہ اس کے عملے نے اسپتال خالی کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہاں سے انخلا انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں موجود مریضوں کی موت کے مترادف ہے۔
انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے ڈائریکٹر رابرٹ مردینی کا کہنا ہے کہ کسی بھی صورت میں اسپتالوں پر بمباری نہیں کرنی چاہیے۔
غزہ کے النصر اسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ لگ بھگ 20 ہزار افراد اس اسپتال میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
ایک جانب اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں میں تیزی آ چکی ہے تو دوسری جانب حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے 220 سے زائد اسرائیلی شہریوں کے لواحقین کا اسرائیلی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ان کی بازیابی کو ممکن بنائے۔
حماس کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ یرغمال بنائے گئے تمام اسرائیلیوں کو واپس بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن اس نے اس کے بدلے اسرائیل کی قید میں موجود تمام فلسطینیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیل نے حماس کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے غزہ اور لبنان کی سرحد کے ساتھ اسرائیلی علاقوں سے شہریوں کا انخلا کرا لیا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق ان علاقوں سے لگ بھگ ڈھائی لاکھ اسرائیلیوں نے انخلا کیا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لبنان میں اسرائیلی حملے، بچے سمیت 7 افراد ہلاک، جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں
22/June/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
22/June/2026 👁️ 100 بار دیکھا گیا
کریمیا پر یوکرین کا بڑا حملہ، 4 افراد ہلاک، ایندھن کی فروخت معطل
21/June/2026 👁️ 135 بار دیکھا گیا
یورینیم افزودگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی صدر پزشکیان
21/June/2026 👁️ 169 بار دیکھا گیا
کراچی میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، خودکش بمبار گرفتار، جیکٹ برآمد
21/June/2026 👁️ 105 بار دیکھا گیا
لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ
21/June/2026 👁️ 112 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8846 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4602 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2467 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2119 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C