04/May/2025

لائن آف کنٹرول پر دس روز سے جاری گولہ باری، کشمیری شہری خوف میں مبتلا

👁️ 110 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
لائن آف کنٹرول پر دس روز سے جاری گولہ باری، کشمیری شہری خوف میں مبتلا

لائن آف کنٹرول پر دس روز سے جاری گولہ باری، کشمیری شہری خوف میں مبتلا

سرینگر + مظفرآباد (ڈیلی اردو/ایف پی/روئٹرز) کشمیر کی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی اور پاکستانی افواج کے درمیان مسلسل دس راتوں سے جاری گولہ باری نے سرحد کے دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق، یہی ان کے لیے جنگ ہے، جو ان کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کر چکی ہے۔

بھارتی زیرانتظام کشمیر کے پہاڑی گاؤں بالاکوٹ کے قریب رہائش پذیر پچاس سالہ بشیر ڈار، جو 2020 میں ایل او سی پر ہونے والی جھڑپوں میں اپنی اہلیہ کو کھو چکے ہیں، کہتے ہیں کہ حالیہ فائرنگ ماضی کے زخم دوبارہ تازہ کر رہی ہے۔ “مارٹر گولہ میری بیوی کے قریب آ کر گرا اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں۔ آج کل وہ لمحہ بار بار آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے،” انہوں نے اے ایف پی کو بتایا۔

بشیر، جو پاکستانی حدود سے بمشکل ایک میل کے فاصلے پر رہتے ہیں، ان دنوں اپنے چار بچوں کے ساتھ ہر رات ایک ہی کمرے میں دبک کر بیٹھے رہتے ہیں اور بارڈر سے آنے والی فائرنگ کی آوازیں سنتے ہیں۔

خوف کے سائے، بنکرز اور ہجرت

سرحدی علاقوں کے رہائشی “جنگی حالات” میں جی رہے ہیں۔ سرکاری ملازم منصور احمد نے اپنے گاؤں میں موجود ایک پرانے بنکر کی صفائی کے لیے دو دن کی چھٹی لی۔ انہوں نے بتایا کہ سن 2021 کے بعد پہلی بار بنکر کو استعمال کے قابل بنایا ہے، اور ضروری اشیاء ذخیرہ کی ہیں۔ بنکر پر دو لاکھ روپے خرچ کرنے والے منصور کہتے ہیں، “اب ہمیں ہر وقت تیار رہنا پڑتا ہے۔”

جن لوگوں کے پاس بنکر بنانے کا وسائل نہیں، وہ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ٹرک ڈرائیور محمد ابراہیم نے بتایا کہ ان کے محلے کی چھ فیملیاں حالیہ دنوں میں محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہو چکی ہیں اور اپنے گھروں اور مویشیوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ہم پر چھوڑ گئی ہیں۔

ایک مقامی نوجوان نے انکشاف کیا کہ “ہمارے گاؤں میں صرف چھ بنکرز ہیں، اور ہر بنکر میں زیادہ سے زیادہ پندرہ افراد ہی پناہ لے سکتے ہیں۔”

بھارتی زیرانتظام کشمیر کے تیلاوری گاؤں کی ایک خاتون نے کہا، “ہم دن رات خبروں پر نظر رکھتے ہیں، اور ہر وقت اس خوف میں رہتے ہیں کہ نہ جانے اگلا نشانہ ہم بنیں گے یا ہمارے بچے۔ ہم صرف امن چاہتے ہیں تاکہ بچوں کو اسکول بھیج سکیں اور معمول کی زندگی گزار سکیں۔”

فائرنگ کا تبادلہ اور الزامات کی جنگ

بھارتی فوج کے مطابق، 24 اپریل سے ایل او سی کے مختلف مقامات پر ہر رات فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ اتوار کو جاری بیان میں فوج نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے بلا اشتعال ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی، جس کا “فوری اور مناسب جواب” دیا گیا۔

اسلام آباد کی جانب سے اس دعوے کی فوری تصدیق نہیں کی گئی، تاہم پاکستان ہمیشہ بھارت پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتا رہا ہے۔

پس منظر اور تازہ کشیدگی کی وجہ

کشمیر، جو 1947 سے بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازعہ علاقہ ہے، دونوں ممالک کا دعوے کا مرکز ہے۔ یہاں 1989 سے بھارتی حکمرانی کے خلاف مسلح تحریک جاری ہے، جس میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

حالیہ کشیدگی کی ایک بڑی وجہ بھارت کے اس الزام کو قرار دیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے پہلگام حملے میں معاونت کی، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی پولیس نے حملے میں مبینہ طور پر ملوث تین افراد کے خاکے جاری کیے ہیں، جن میں دو پاکستانی اور ایک بھارتی باشندہ شامل ہیں۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ ان کا تعلق پاکستان میں قائم لشکر طیبہ سے ہے، جسے اقوام متحدہ ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے۔

اسلام آباد نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی تحقیقات کے لیے تیار ہے تاکہ سچ سامنے آ سکے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C