15/October/2026

مدینہ کی فضائی حدود میں کروز میزائل مار گرانے کا سعودی اتحاد کا دعویٰ، حوثیوں کی تردید

👁️ 33 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مدینہ کی فضائی حدود میں کروز میزائل مار گرانے کا سعودی اتحاد کا دعویٰ، حوثیوں کی تردید

مدینہ کی فضائی حدود میں کروز میزائل مار گرانے کا سعودی اتحاد کا دعویٰ، حوثیوں کی تردید

ریاض (ڈیلی اردو) سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے مدینہ ریجن میں ایک کروز میزائل کو روک کر تباہ کردیا ہے، تاہم یمن کی حوثی تحریک نے سعودی سرزمین کی جانب میزائل داغنے کی تردید کرتے ہوئے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق، اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے جمعرات کو بتایا کہ مدینہ ریجن میں میزائل کو روک کر تباہ کیا گیا۔ اتحاد نے اسی روز سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں ایک ڈرون بھی مار گرانے کا اعلان کیا۔ تاہم ابتدائی بیان میں میزائل کے ممکنہ ہدف، حملہ کہاں سے کیا گیا اور کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

دوسری جانب حوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان کی فورسز نے جمعرات کو سعودی عرب کی جانب کوئی حملہ نہیں کیا۔ اس کے برعکس انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا اور میزائل اپنے ہدف تک پہنچا۔ اس دعوے اور سعودی اتحاد کے بیان کی تفصیلات میں تضاد ہے، جبکہ دونوں جانب کے تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔

حوثی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ صوبہ صعدہ کی فضائی حدود میں سعودی ٹائفون جنگی طیارے کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ اس حوالے سے بھی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔

 

رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثی تحریک کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، سعودی اتحاد نے مدینہ ریجن میں کروز میزائل روکنے اور مشرقی علاقے میں ڈرون تباہ کرنے کی اطلاع دی، لیکن مدینہ کی جانب آنے والے میزائل کے بارے میں اس کے ابتدائی بیان میں حملہ آور کی شناخت واضح نہیں کی گئی۔

 

 

اس سے قبل سعودی اتحاد نے الزام لگایا تھا کہ 29 ستمبر کو مدینہ کے طیبہ بجلی تقسیم مرکز پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس سے ایک ٹرانسفارمر بند ہوگیا تھا، تاہم بجلی کی مجموعی فراہمی متاثر نہیں ہوئی۔ حوثیوں نے اس حملے میں ملوث ہونے سے بھی انکار کیا تھا۔

 

 

دوسری جانب الجزیرہ اور رائٹرز کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت سعودی اہداف پر میزائل حملوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان نے تنازع کو مزید سنگین کردیا ہے۔ ان حملوں کے باعث فضائی سفر اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بڑھے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C