27/August/2024

ملک دشمنوں سے کوئی بات نہیں ہو گی، دہشت گردی کو ختم کرنے کا وقت آ پہنچا، وزیر اعظم شہباز شریف

👁️ 89 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ملک دشمنوں سے کوئی بات نہیں ہو گی، دہشت گردی کو ختم کرنے کا وقت آ پہنچا، وزیر اعظم شہباز شریف

ملک دشمنوں سے کوئی بات نہیں ہو گی، دہشت گردی کو ختم کرنے کا وقت آ پہنچا، وزیر اعظم شہباز شریف

اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک دشمنوں کےساتھ کوئی بات نہیں ہوگی، اس دہشت گردی کو ختم کرنےکا وقت آپہنچا ہے۔

منگل کو وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک دشمنوں کےساتھ کوئی بات نہیں ہوگی، دہشت گرد پاکستان اور چین میں فاصلے پیدا کرنا چاہتے ہیں، دہشت گردوں کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے، اس دہشت گردی کو ختم کرنےکا وقت آپہنچا ہے، اس سلسلے میں دی گئی قربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی، اس سلسلے میں پاکستان کی فوج کے سربراہ سے بات ہوئی ہے اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے تمام وسائل مہیا کیے جائیں گے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پاکستان میں خلفشار پیدا کرنا چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں اس کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں رخنہ ڈالا جائے، بہت جلد بلوچستان کادورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لوں گا، صوبائی حکومتوں کےساتھ مل کر اقدامات کر رہے ہیں، ہمیں دشمن کے مذموم عزائم کو پہچاننا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنے دشمنوں کو پہچاننا ہوگا، کسی قسم کی کمزوری اور ضعف کا سوال نہیں پیدا ہوتا، بلوچستان میں جو لوگ پاکستان کے آئین، اس کے جھنڈے کو تسلیم کرتے ہیں، ان کے ساتھ بات چیت کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں، لیکن جو اس آڑ میں دوست نما دشمن ہیں، ان کے ساتھ نہ کوئی بات ہو سکتی ہے، نہ ان کے ساتھ کسی قسم کا نرم رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح پیغام ہے،اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی، کل کے واقعات سب کے لیے لمحہ فکریہ ہیں، ہم ان مشکلات کو عبور کریں گے۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 25 اگست کی شب شروع ہونے والے حملوں میں 10 فوجی اہلکاروں سمیت چار درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس کے بعد بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ ’معصوم شہریوں کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے گا۔‘

ان حملوں اور سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’معصوم شہریوں کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے گا اور انھیں قانون کے مطابق قرارواقعی سزا دی جائے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں شدت پسندوں کے حملے میں 38 شہری ہلاک ہوئے۔

خیال رہے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے یہ حملے مقبول سیاسی رہنما نواب اکبر بگٹی کی 18ویں برسی کے موقع پر کیے گئے تھے اور کالعدم علیحدگی پسند تنظیم جانب سے ’آپریشن ھیروف‘ کا نام دیا گیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C