06/October/2026

مکہ دفاعی معاہدہ فعال، پاکستان اور ترکی کی فوجی صلاحیتیں سعودی عرب میں فوری تعینات کرنے کا فیصلہ

👁️ 46 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مکہ دفاعی معاہدہ فعال، پاکستان اور ترکی کی فوجی صلاحیتیں سعودی عرب میں فوری تعینات کرنے کا فیصلہ

مکہ دفاعی معاہدہ فعال، پاکستان اور ترکی کی فوجی صلاحیتیں سعودی عرب میں فوری تعینات کرنے کا فیصلہ

ریاض(ڈیلی اردو) سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع کو عملی شکل دیتے ہوئے سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات کے مقابلے کے لیے متفقہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فوری فراہمی اور ضرورت پڑنے پر مملکت میں تیز رفتار تعیناتی کا فیصلہ کرلیا۔

یہ فیصلہ ریاض میں مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا، جس میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی، جبکہ سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع سے متعلق اپنے وعدوں پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری اقدامات کی منظوری دی گئی تاکہ پہلے سے طے شدہ انتظامات کے تحت فوجی قوت اور دفاعی صلاحیتیں فراہم کی جاسکیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں مختصر وقت میں سعودی عرب منتقل کیا جاسکے۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ دفاعی اقدامات تینوں ممالک کے طے شدہ طریقہ کار اور قومی قوانین کے مطابق کیے جائیں گے۔ تاہم اجلاس کے بعد جاری معلومات میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پاکستان اور ترکی کی جانب سے کتنے فوجی اہلکار یا کس نوعیت کی مخصوص دفاعی صلاحیتیں سعودی عرب بھیجی جائیں گی۔

تینوں ممالک نے مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں سمیت سعودی عرب کے شہروں، شہری تنصیبات اور اقتصادی مراکز کے خلاف حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو درپیش کسی بھی حملے یا خطرے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق اجلاس کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز نے حوثی باغیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر رکھی ہے اور سعودی عرب کو میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یمن میں حکومتی فورسز باب المندب کے قریب اہم علاقوں میں پیش قدمی کر رہی ہیں جبکہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی اہداف پر حملوں کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔

اے پی کے مطابق حالیہ لڑائی نے یمن میں کئی سال کی نسبتاً کم شدت والی صورتحال کے بعد ایک بار پھر بڑے پیمانے پر کشیدگی پیدا کردی ہے، جبکہ باب المندب کے اطراف کی صورتحال نے خطے کی سکیورٹی کے ساتھ ساتھ عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔

مکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے طے کیا تھا، جس کے تحت ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کرنے کا اصول اپنایا گیا۔ تازہ اجلاس کو اس معاہدے کو سیاسی اعلان سے آگے بڑھا کر عملی دفاعی تعاون میں تبدیل کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں پاکستان کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو تین سال کے لیے مکہ اتحاد برائے دفاع کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ تینوں ممالک نے ان کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور مشترکہ دفاعی اہداف کے حصول میں کردار ادا کریں گے۔

کمیٹی نے ہنگامی اجلاس سے قبل ہونے والے سیاسی اور عسکری مشاورتی عمل کے نتائج اور سفارشات کا بھی جائزہ لیا اور انہیں منظور کیا۔ فریقین کے مطابق مکہ دفاعی اتحاد کا مقصد مشترکہ دفاع، عسکری تیاری، باہمی تعاون اور خطرات کے خلاف اجتماعی ردعمل کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

پاکستان اور ترکی نے سعودی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، تیاری اور چوکسی کو بھی سراہا اور سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ان کے کردار کی تعریف کی۔

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف اس سے قبل بھی واضح کرچکے ہیں کہ سعودی عرب کے خلاف کسی جارحیت کی صورت میں پاکستان مملکت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ اے پی کے مطابق تاہم اس وقت تک پاکستان نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ آیا سعودی عرب نے براہ راست پاکستانی فوجی مدد طلب کی ہے یا پاکستانی فورسز کسی مخصوص جنگی کارروائی میں حصہ لیں گی۔

تازہ فیصلے کے بعد مکہ دفاعی معاہدہ اب اپنے پہلے بڑے عملی امتحان میں داخل ہوگیا ہے، کیونکہ تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع کے وعدے کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق رکن ممالک کی سلامتی کو مشترکہ سلامتی تصور کیا جائے گا اور باہمی دفاعی تعاون کے ذریعے خطے کو درپیش خطرات کے خلاف مشترکہ مزاحمت اور دفاعی تیاری مزید مضبوط کی جائے گی۔

پاکستان نے اس موقع پر خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C