29/September/2026

میانمار میں مختلف علاقوں میں جھڑپیں اور فضائی حملے، مجموعی طور پر 50 سے زائد ہلاکتیں

👁️ 60 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
میانمار میں مختلف علاقوں میں جھڑپیں اور فضائی حملے، مجموعی طور پر 50 سے زائد ہلاکتیں

میانمار میں مختلف علاقوں میں جھڑپیں اور فضائی حملے، مجموعی طور پر 50 سے زائد ہلاکتیں

رخائن(ڈیلی اردو) میانمار میں فوج اور مسلح مزاحمتی گروہوں کے درمیان جاری لڑائی کے دوران رخائن، کاچن اور کیرنی سمیت مختلف علاقوں میں فضائی حملوں اور زمینی جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سب سے زیادہ جانی نقصان رخائن کے شہر کیاوک تاؤ میں ایک بازار کے قریب فضائی حملے میں رپورٹ ہوا، جہاں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 49 تک پہنچ گئی ہے۔

رخائن کے کیاوک تاؤ میں 28 ستمبر کو بھارت بازار اور قریبی کسّاپا ندی پل کے اطراف فضائی حملہ کیا گیا۔ اراکان آرمی اور مقامی امدادی کارکنوں کے مطابق حملے میں کم از کم 49 افراد ہلاک جبکہ 58 زخمی ہوئے، جن میں 22 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ واقعے کے بعد مزید لاشیں ملنے سے ہلاکتوں میں اضافے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

اراکان آرمی نے حملے کا الزام میانمار کی فوج پر عائد کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب میانمار کی فوج کی جانب سے اس مخصوص واقعے پر فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

ادھر شمالی شان ریاست کے مومیک اور کاچن ریاست کے بھاماؤ کے علاقوں میں میانمار کی فوج اور کاچن انڈیپنڈنس آرمی (KIA) کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ مقامی ذرائع اور KIA کے ترجمان کے مطابق مومیک کے قریب جھڑپوں کے دوران KIA اور اس کے اتحادی گروہوں نے فوج کی ایک اہم چوکی پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

کیرنی ریاست کے ڈیموسو علاقے میں بھی فضائی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں مقامی انتظامیہ کے مطابق حملے کے نتیجے میں بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق جنگی طیارے اور Y-12 طیارے کے ذریعے بمباری کے علاوہ فائرنگ بھی کی گئی۔ میانمار کے مختلف علاقوں میں ستمبر کے دوران فضائی حملوں اور توپ خانے کی کارروائیوں سے شہریوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔

دریں اثنا ایراوادی ڈویژن کے تھاراپونگ علاقے میں بھی ایک کسان کی ہلاکت اور تین شہریوں کی گرفتاری کی مقامی ذرائع سے اطلاعات ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق فوجی دستے کی آمد کے دوران 40 سال سے زائد عمر کے ایک کسان کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا، جبکہ فرار ہونے کی کوشش کرنے والے تین دیگر شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

میانمار میں فروری 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں فوج، نسلی مسلح گروہوں اور دیگر مزاحمتی تنظیموں کے درمیان مسلح تنازع جاری ہے، جس کے نتیجے میں شہری آبادی کو بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور جانی نقصان کا سامنا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C