میانمار : جنگی کشیدگی برقرار، اسکول پر گولہ باری میں بچہ ہلاک، مختلف علاقوں میں جھڑپیں اور علاقائی کنٹرول کی جنگ تیز
👁️ 65 بار دیکھا گیا
میانمار : جنگی کشیدگی برقرار، اسکول پر گولہ باری میں بچہ ہلاک، مختلف علاقوں میں جھڑپیں اور علاقائی کنٹرول کی جنگ تیز
نیپیداو(ڈیلی اردو)میانمار میں فوج اور مسلح مخالف گروہوں کے درمیان جاری لڑائی کے دوران مختلف علاقوں میں جھڑپوں اور فوجی کارروائیوں میں شدت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ منڈالے ڈویژن کے شہر میانگ چانگ میں ایک بودھ مذہبی تعلیمی ادارے پر توپ خانے کی گولہ باری کے نتیجے میں 7 سالہ طالب علم ہلاک جبکہ دو دیگر طلبہ زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ دوسری جانب ساگانگ ریجن میں مزاحمتی گروہوں نے ایک فوج نواز ملیشیا کے اڈے پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ رخائن ریاست کے سِتّوے کے قریب اراکان آرمی کی جانب سے مزید دو فوجی مراکز پر قبضے کی اطلاعات ہیں۔ اسی دوران میانمار کی فوج کی جانب سے بعض علاقوں میں دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں، فضائی حملوں، لازمی فوجی بھرتی اور چین کے کردار پر بھی نئی بحث سامنے آئی ہے۔ رخائن میں انسانی حقوق کے ایک گروپ کے مطابق جولائی سے 23 ستمبر تک فوجی کارروائیوں میں 57 شہری ہلاک ہوئے، جن میں 9 بچے بھی شامل ہیں۔
میانگ چانگ میں مذہبی اسکول پر گولہ باری، 7 سالہ طالب علم ہلاک
منڈالے ریجن کے میانگ چانگ ٹاؤن شپ میں مقامی ذرائع کے مطابق فوج کی جانب سے ایک بودھ مذہبی تعلیمی ادارے پر توپ خانے کے گولے داغے گئے، جس کے نتیجے میں 7 سالہ پرائمری اسکول کا طالب علم ہلاک ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق 23 ستمبر کی سہ پہر تقریباً 3 بجے میانگ چانگ میں قائم فوجی یونٹ سے دازا کْوِن گاؤں میں واقع مذہبی تعلیمی اسکول پر گولہ باری کی گئی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت علاقے میں کوئی لڑائی نہیں ہورہی تھی اور گولہ اسکول کے احاطے میں گرا۔
ذرائع کے مطابق حملے میں ایک طالب علم موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ ساتویں جماعت کی ایک طالبہ اور دوسری جماعت کا ایک طالب علم بھی زخمی ہوئے۔ ایک فوجی ذریعے نے بتایا کہ اسکول میں دو توپ خانے کے گولے گرنے کی اطلاع ہے اور یہ واقعہ اسکول سے چھٹی کے وقت پیش آیا۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ مذہبی تعلیمی ادارے میں قریبی دیہات سے تعلق رکھنے والے 700 سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ستمبر کے آغاز سے میانگ چانگ کے مختلف دیہات میں توپ خانے اور ڈرون حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جن کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں اور گھروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
کَنڈبلُو میں فوج نواز ملیشیا کے اڈے پر قبضے کا دعویٰ
ساگانگ ریجن کے کَنڈبلُو ٹاؤن شپ میں مزاحمتی گروہوں نے فوج نواز پیو ساو ہتی ملیشیا کے پیِن ٹاؤ اڈے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
کَنڈبلُو ٹاؤن شپ کی عوامی انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائی 24 ستمبر کی صبح سویرے کی گئی، جب مختلف مزاحمتی گروہوں کے مشترکہ دستوں نے اڈے پر حملہ کیا۔ دعوے کے مطابق کارروائی کے دوران فوجی جانب کو جانی نقصان پہنچا جبکہ ہتھیار اور گولہ بارود بھی قبضے میں لیا گیا۔
مقامی انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق حملے میں شریک مزاحمتی اہلکار بغیر کسی جانی نقصان کے واپس نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ تاہم کارروائی کے دوران ہلاکتوں اور قبضے میں لیے گئے ہتھیاروں کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
رپورٹ کے مطابق پیِن ٹاؤ کا یہ اڈہ ماضی میں بھی مزاحمتی گروہوں کے حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے اور اسے فوج نواز ملیشیا کے اہلکاروں کی تربیت کے لیے استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
سِتّوے کے قریب اراکان آرمی کا مزید دو فوجی مراکز پر قبضے کا دعویٰ
رخائن ریاست کے سِتّوے ٹاؤن شپ میں اراکان آرمی نے 22 اور 23 ستمبر کو فوج کے مزید دو مراکز پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق دونوں مراکز واؤابو جزیرے کے علاقے میں واقع تھے۔ ان کے مطابق اراکان آرمی کی کارروائی کے بعد میانمار کی فوج نے سِتّوے اور پُو نیا کُن ٹاؤن شپ کے درمیان علاقوں پر فضائی بمباری تیز کردی، جو 22 ستمبر سے 24 ستمبر کی صبح تک جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔
رپورٹ میں ایک مقامی ذریعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ فوجی مراکز پر قبضے کے دوران فوجی اہلکاروں کی لاشیں اور اسلحہ بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
مقامی رپورٹس کے مطابق رخائن میں فوج کی کارروائیوں کے باعث پُو نیا کُن، رَتھیداؤنگ اور پَوک ٹاؤ ٹاؤن شپ کے متعدد علاقوں سے شہریوں کے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرنے کی اطلاعات ہیں۔ اراکان آرمی اور میانمار کی فوج کے درمیان رخائن میں کئی محاذوں پر لڑائی جاری ہے۔
میانمار کی فوج کے دوبارہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش، فضائی طاقت اہم عنصر قرار
میانمار کی مجموعی جنگی صورتحال کے حوالے سے الجزیرہ کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2023 اور 2024 میں مزاحمتی گروہوں کی پیش قدمی کے بعد حالیہ عرصے میں فوج نے بعض اہم علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی میں فوجی بھرتی، فضائی حملوں اور چین کے دباؤ سمیت متعدد عوامل کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چِن ریاست میں فالم سمیت متعدد اہم علاقوں سے مزاحمتی گروہوں کے پیچھے ہٹنے کے بعد فوج نے شمالی چِن کے بڑے حصے پر کنٹرول کا دعویٰ کیا۔ آزاد تھنک ٹینک آئی ایس پی-میانمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فوج نے 2021 کی بغاوت کے بعد اپنے ہاتھ سے نکلنے والے 101 شہروں میں سے 22 پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان میں سے متعدد مقامات سرحدی علاقوں اور مرکزی میانمار کے درمیان اہم تجارتی و رسد کے راستوں پر واقع ہیں۔
لازمی فوجی بھرتی اور چینی کردار کو بھی اہم عوامل میں شمار کیا گیا
الجزیرہ کے تجزیے کے مطابق میانمار کی فوج نے لازمی فوجی بھرتی کے ذریعے اپنی افرادی قوت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ سکیورٹی تجزیہ کار انتھونی ڈیوس کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ 2024 کے بعد تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد فوج میں شامل کیے گئے، اگرچہ ان میں سے بہت سے نئے اہلکاروں کو محدود تربیت حاصل ہونے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں چین کے کردار کا بھی ذکر ہے۔ اس کے مطابق بیجنگ نے میانمار کی فوج اور بعض طاقتور نسلی مسلح گروہوں کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کی جبکہ بعض مزاحمتی گروہوں تک اسلحے کی رسد محدود کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔ تجزیے کے مطابق اس صورتحال نے فوج کو بعض علاقوں میں اپنی فورسز دوبارہ تعینات کرنے کا موقع فراہم کیا۔
فضائی حملوں میں شہری ہلاکتوں کا معاملہ
رپورٹ میں میانمار انٹرنیٹ پروجیکٹ کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اپریل سے جون کے دوران ملک میں 520 فضائی حملے ریکارڈ کیے گئے، جو 87 ٹاؤن شپ میں ہوئے۔ ان حملوں میں کم از کم 314 شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا، جن میں 41 بچے بھی شامل تھے۔
تجزیے کے مطابق چِن ریاست میں سب سے زیادہ 122 فضائی حملے رپورٹ ہوئے، جبکہ ساگانگ میں 101 اور رخائن میں 98 حملوں کا ذکر کیا گیا۔ مختلف ماہرین نے کہا ہے کہ فضائی طاقت نے میانمار کی فوج کو زمینی کارروائیوں میں اہم معاونت فراہم کی ہے، جبکہ مزاحمتی گروہوں کے لیے اس کا مؤثر جواب دینا ایک بڑا چیلنج ہے۔
رخائن میں دو ماہ سے زائد عرصے کے دوران 57 شہری ہلاک ہونے کا دعویٰ
اس دوران رخائن ریاست میں سیاسی قیدیوں کی مدد کے لیے کام کرنے والی تنظیم اے اے پی پی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یکم جولائی سے 23 ستمبر تک فوجی کارروائیوں کے دوران 57 شہری ہلاک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 30 خواتین اور 27 مرد شامل ہیں، جبکہ 18 سال سے کم عمر 9 بچے بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے۔ اے اے پی پی کے مطابق 53 افراد فضائی حملوں، دو توپ خانے کی فائرنگ، ایک گرفتاری کے بعد مبینہ قتل اور ایک شخص فائرنگ سے ہلاک ہوا۔
رپورٹ میں 20 ستمبر کو رَتھیداؤنگ ٹاؤن شپ کے زی کَائن گاؤں پر توپ خانے سے فائرنگ کے واقعے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس میں ایک معمر خاتون اور ان کی بیٹی ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ ان اعداد و شمار اور واقعات کی مکمل آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔
میانمار میں طویل جنگ کے جاری رہنے کے امکانات
میانمار کی جنگ اب پانچویں سال میں داخل ہوچکی ہے اور مختلف علاقوں میں فوج، پی ڈی ایف اور نسلی مسلح تنظیموں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کے اعداد و شمار میں تقریباً 39 لاکھ افراد کے بے گھر ہونے اور ملک کی ایک بڑی آبادی کے انسانی امداد کی محتاج ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ اے سی ایل ای ڈی کے مطابق تنازع میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فوج کی جانب سے بعض اہم شہروں پر دوبارہ قبضہ، فضائی طاقت، نئی بھرتیاں اور چین کی جانب سے بعض مسلح گروہوں پر دباؤ نے جنگ کے میدان میں صورتحال کو تبدیل کیا ہے، تاہم مزاحمتی گروہوں کی جانب سے بھی لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ میانمار میں مختلف محاذوں پر تنازع بدستور پیچیدہ اور طویل نوعیت کا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
میانمار : جنگی کشیدگی برقرار، اسکول پر گولہ باری میں بچہ ہلاک، مختلف علاقوں میں جھڑپیں اور علاقائی کنٹرول کی جنگ تیز
25/September/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
پاکستان افغانستان پر حملے کرکے مکہ دفاعی معاہدے سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، ذبیح اللہ مجاہد
25/September/2026 👁️ 76 بار دیکھا گیا
یمن میں حوثی باغیوں کے نقصانات میں اضافہ، جولائی سے اب تک 787 ہلاکتیں رپورٹ
25/September/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی مختلف کارروائیاں، 33 دہشتگرد ہلاک کرنے کا دعویٰ
25/September/2026 👁️ 73 بار دیکھا گیا
حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے فوجی سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب
25/September/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
بھارت پاکستان سرحد پر بی ایس ایف کی کاروائی اسلحہ برآمد
25/September/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26330 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15577 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11863 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9181 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7464 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5271 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C