28/May/2025

نارروال:مشتعل افراد نے کولڈ سٹوریج باکس کو آگ لگا دی، احمدی خاتون کی میت موجود تھی

👁️ 194 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
نارروال:مشتعل افراد نے کولڈ سٹوریج باکس کو آگ لگا دی، احمدی خاتون کی میت موجود تھی

نارروال:مشتعل افراد نے کولڈ سٹوریج باکس کو آگ لگا دی، احمدی خاتون کی میت موجود تھی

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے صوبے پنجاب کے ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ کے گاؤں کلا میں مذہبی شدت پسندی کے ایک افسوسناک واقعے میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) سے منسلک مشتعل افراد نے ایک کولڈ سٹوریج کیبن کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ کیبن میں اس وقت ایک خاتون کی لاش رکھی گئی تھی، جن کا مبینہ طور پر تعلق احمدی کمیونٹی سے تھا۔

مقامی صحافی میاں شاہد اقبال اور دیگر عینی شاہدین کے مطابق، چند روز قبل مقصود احمد نامی شخص کی اہلیہ انتقال کر گئی تھیں۔ گرمی اور تدفین میں تاخیر کے باعث لاش کو گاؤں میں موجود کولڈ سٹوریج کیبن میں رکھا گیا، جو اہلِ علاقہ نے اجتماعی طور پر خرید رکھا ہے تاکہ میتوں کو عارضی طور پر محفوظ رکھا جا سکے۔

مذہبی تنظیم کا منظم ردعمل

جب گاؤں میں یہ خبر پھیلی کہ کیبن میں رکھی گئی لاش ایک احمدی خاتون کی ہے، تو بعض مذہبی شخصیات نے یہ موقف اپنایا کہ احمدی خاتون کی میت نے “وقف کردہ” اسلامی سروسز کو “ناپاک” کر دیا ہے۔ اس کے بعد ٹی ایل پی کے مقامی رہنماؤں، بشمول ایک مفتی محمد اجمل کی قیادت میں، درجنوں مشتعل افراد نے باکس کو چوراہے میں گھسیٹا، پٹرول اور دھان کی باقیات چھڑکیں اور کیبن کو آگ لگا دی۔ اس دوران “تاجدار ختم نبوت زندہ باد” اور “قادیانیوں پر لعنت” جیسے نعرے لگائے گئے۔

ریاستی ادارے خاموش تماشائی

واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔ لیکن مقامی تھانے میں تاحال کسی قسم کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ پولیس اور انتظامیہ نے رسمی طور پر لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعتوں کے دباؤ کے باعث پولیس کوئی اقدام نہیں کر رہی۔

اقلیتوں کے حقوق پر حملہ

یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتیں، خاص طور پر احمدی کمیونٹی، کس حد تک غیر محفوظ ہیں۔ گاؤں کے عوامی استعمال کے لیے قائم کیبن کو صرف اس بنیاد پر جلا دینا کہ اس میں ایک احمدی کی لاش رکھی گئی، نہ صرف مذہبی تعصب کی علامت ہے بلکہ انسانی وقار اور تدفین کے عالمی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

سوشل میڈیا پر انتہا پسندی کا جشن

واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جن میں کیبن کو جلتا ہوا اور مذہبی نعرے بازی واضح دیکھی جا سکتی ہے۔ کئی صارفین نے اس عمل کی حمایت کرتے ہوئے اسے “عقیدہ ختم نبوت کا دفاع” قرار دیا ہے، جب کہ انسانی حقوق کے کارکنوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاستی بے حسی پر سوال اٹھائے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C